site
stats
بلوچستان

پلی بارگین کی رقم غبن شدہ رقم سے کہیں زیادہ ہے، نیب بلوچستان

کوئٹہ : ڈی جی نیب بلوچستان ریجن طارق محمود ملک نے کہا ہے کہ خزانہ کیس میں 2ارب 24 کروڑ روپے کی کرپشن ہوئی، پلی بارگین کے ذریعے تقریباً 3 ارب روپے کی رقم حاصل ہوگی جو پلی بارگین کی رقم غبن شدہ رقم سے کہیں زیادہ ہے، نیب نے تحقیقات کے دوران 100 سے ز ائد بینک اکاونٹس چیک کیے جبکہ لوکل گورنمنٹ کا پیسہ 6 اکاونٹس کے ذریعے مختلف اکاونٹس میں گیاتھا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ طارق محمود ملک نے کہا کہ پلی بارگین کے بعد مشتاق رئیسانی اور سہیل مجید کا کیس بند نہیں ہوا، کسی بھی ملزم کو راستہ نہیں دیا گیا ،بلاامتیاز کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔

طارق محمود ملک نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری ہونے جارہی ہے ، ڈی جی نیب بلوچستان نے وضاحت کی کہ سابق مشیرخزانہ سمیت دیگرملزمان کے خلاف ریفرنس جلد دائر کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ سہیل مجید کے26 اکاونٹس میں بھی پیساکک بیکس اورکمیشن کی مد میں جاتارہا،نیب نے بڑے کٹھن مراحل سے گزرکرکرپٹ عناصر سے رقم وصول کی ہے۔6 اکاونٹس کے ذریعے ملزمان نے کراچی میں 11 بنگلے اورمتعدد جائیدادیں خریدیں۔

مزید پڑھیں: مشتاق رئیسانی سے پلی بارگین کرکے 65کروڑ32لاکھ روپے واپس لےلیے، ڈی جی آپریشنز نیب

پلی بارگین کافیصلہ بلوچستان کے لوگوں کوترقی کے ثمرات بہم پہنچانے کیے لیے کیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ پلی بارگین رقم ریکورکرنے کی تیزترین صورت تھی، ملزمان نے ایک ارب روپے کی جائیدادیں بھی سرنڈر کیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top