بانی ایم کیو ایم پاکستان آئے، تو گرفتار کریں گے: ڈی جی رینجرز سندھ کا اے آر وائی پر خصوصی انٹرویو
The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں سیاست اور جرائم کا گٹھ جوڑ تھا، بانی ایم کیو ایم پاکستان آئے، تو گرفتار کریں گے: ڈی جی رینجرز سندھ

لاہور: ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید کا کہنا ہے کہ بانی ایم کیو ایم پاکستان آئے، تو  انھیں گرفتار کریں گے، ایم کیوایم لندن کےعلاوہ اب کسی جماعت کاعسکری ونگ موجودنہیں ۔

 ان خیالات کا اظہار ڈی جی رینجرز سندھ نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’’آف دی ریکارڈ‘‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا.

انھوں نے کہا کہ کہ کراچی میں سیاست اورجرائم کا گٹھ جوڑ تھا،  آپریشن کا فیصلہ کرنے والی لیڈر شپ نے ہمیں بٹھا کر کہا کہ کراچی سے جرائم کا خاتمہ کرنا ہے۔

میجر جنرل محمد سعید نے کہا کہ عزیر بلوچ رینجرز کی کسٹڈی میں اس وقت تھا، جب گرفتار ہوا تھا، عزیر بلوچ کا کیس ملٹری کورٹ میں ہے، اس کی موجودگی کے بارے میں متعلقہ حکام ہی بتاسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جرائم سے متعلق بہت سی جےآئی ٹی میں حماد صدیقی کا نام موجود ہے، بلدیہ فیکٹری کیس میں گرفتارزبیر چریا اور رحمان بھولا جیل میں ہیں۔

ایم کیوایم پاکستان اور پی ایس پی میں ملاقات رینجرز نے نہیں کرائی

ڈی جی رینجرز سندھ

ڈی جی رینجر سندھ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سی پی ایل سی 1995 میں بنا، اس کا ریکارڈ مستند ہے، البتہ ریکارڈ سے پہلے دیکھنا ہوگاکراچی کے مسائل کیا تھے۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ سے 31ہزار افراد کی جانیں گئیں، 1985سے1995تک 21 ہزار افراد زندگی سے محروم ہوئے، 1985 سے ستمبر 2013 تک مجموعی طور پر  92 ہزار لوگ مرے، ایدھی، سی پی ایل سی اور  ہمارا ریکارڈ ملایاجائے تو  مرنے والوں کی تعدادزیادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں 2013 الیکشن میں ٹرن آؤٹ 42 فیصد، ، جب کہ 2018میں 48 فیصد تھا، بائیکاٹ کا فیصلہ اثر انداز نہیں ہوا، رینجرز 2013سے تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے میں رہی ہے ، البتہ ایم کیوایم پاکستان اور پی ایس پی میں ملاقات رینجرز نے نہیں کرائی۔

ان کا کہنا تھا کہ لیاری کے عوام نے گینگ وار کی وجہ سے بہت براوقت دیکھاہے، مگر آج لیاری کے علاقے میں کرائم ریٹ سب سے کم ہے ، الیکشن میں کون جیتا یا ہارا اس سے تعلق نہیں، مگر لیاری میں پورے الیکشن میں ایک گولی نہیں چلی۔

ڈی جی رینجر سندھ نے کہا کہ بانی ایم کیوایم پاکستان آئیں گے تو گرفتار کریں گے، وہ مقدمات کا سامنا کریں ، پولیس کے علاوہ رینجرز کے پاس بھی ان کے خلاف کیسز ہیں، وہ بھی گرفتار کرسکتی ہے۔

میجرجنرل محمد سعید کا کہنا تھا کہ کراچی میں ہر ماہ دہشت گردی کے 7  واقعات ہوتے تھے، سیکیورٹی اور پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکے ،دستی بم حملے ہوتے تھے، سیاسی لیڈرشپ نے قانون بنایا اور ایک فورس کو اختیارات دیے، یہ اختیارات 1992میں مل جاتے تو 2013میں کراچی کی صورتحال یہ نہ ہوتی۔


مزید پڑھیں: طالب علم اپنی صلاحتیوں کے ذریعے صحت مندانہ رجحانات کو فروغ دیں: ڈی جی رینجرز سندھ


ڈی جی رینجرز نے کہا کہ ستمبر 2013 کے بعد سے 14800سےزائد آپریشن میں 11088لوگوں کو گرفتارکیاگیا، 2017 اور 2018 میں بھی دو دو ہزار کےقریب لوگ گرفتارہوئے۔ کراچی آپریشن کے دوران بہت سے لوگ بیرون ملک بھاگ گئے اور روپوش ہوگئے۔

انھوں نے کہا کہ 2017 اور 2018میں دہشت گردی کے واقعے میں کسی کی جان نہیں گئی، 2017میں اغوابرائے تاوان کے 30 واقعات ہوئے جو حل کرلئےگئے، اغوا کے جعلی واقعات کا سوشل میڈیا پر بہت پروپیگنڈا کیا گیا۔

کئی جے آئی ٹی میں حماد صدیقی کا نام موجود ہے

ڈی جی رینجرز سندھ

انھوں نے کہا کہ کراچی میں رواں سال صرف دو بچوں کے اغوا کا معاملہ حل نہیں ہو سکا، چاقو بردار شخص کو نہ پکڑنا ہماری اورپولیس کی ناکامی ہے، البتہ امن وامان کی صورت حال پچھلے5سال میں بتدیج بہترہوتی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عام تاثر ہے پولیس میں بھرتیاں سیاسی بنیاد پر ہوتی ہیں، البتہ کراچی میں جتنی ٹارگٹ کلنگ کا شکار پولیس ہوئی ہے اتنا کسی شہر میں نہیں ہوئی، سوسائٹی کو پولیس کےساتھ کھڑے ہوناچاہئے اور تعاون کرناچاہیے۔ اسٹریٹ کرائم ختم کرناچاہتے ہیں تو پولیس کو آئی ٹی شعبے میں بہتربناناہوگا۔

انھوں نے کہا کہ اومنی گروپ کے دفتر پر چھاپا اسلحہ کی اطلاع پر کیا گیا تھا، ہائی پروفائل کیسز میں پولیس چھاپا مارتی ہے رینجرز کو اسکواڈ میں رکھاجاتا ہے، البتہ رینجرزکی موجودگی سے تاثر جاتا ہے کہ رینجرز نے چھاپہ مارا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں