ایم کیو ایم اور پی ایس پی سمیت دیگرجماعتیں بھی رابطے میں ہیں، ڈی جی رینجرز dg rangers
The news is by your side.

Advertisement

ایم کیو ایم اور پی ایس پی سمیت دیگر سیاسی جماعتیں بھی رابطے میں ہیں، ڈی جی رینجرز

کراچی : ڈی جی رینجرز محمد سعید نے کہا ہے کہ رینجرز کراچی میں قیام امن کے لیے کام کر رہی ہے، متعدد جماعتوں کے سنسنی خیز بیانات پرتشویش ہے کیوں کہ ایسے بیانات سے رینجرز آپریشن پرسوالات اٹھائے جاتے ہیں، ایم کیو ایم اور پی ایس پی کے ملاپ میں حرج نہیں بس 1992جیسے حالات پیدا نہیں ہونے چاہیئں.

ڈی جی رینجرز سندھ محمد سعید نے کہا کہ دیکھنا ہوگا کہ 2013 میں رینجرز آپریشن سے پہلے کراچی کا کیا حال تھا جب کراچی میں روزانہ 8 سے 10 کروڑ روپے بھتہ لیا جاتا تھا اور 8 افراد کی ٹارگٹ کلنگ ہوا کرتی تھی اور 2 افراد کو روزنہ کی بنیاد پر اغواء کیا جاتا تھا لیکن آج کراچی میں امن وامان کی صورتحال بہت بہتر ہے.

ڈی جی رینجرز سندھ نے کہا کہ پی ایس پی اور ایم کیو ایم کے درمیان معاہدے کی بنیادی شرط یہ تھی کہ پرامن سیاست ہو کیوں کہ جب 1992 میں ایم کیوایم ٹوٹی تو حقیقی بنی جس کے بعد کتنے فسادات ہوئے تھے اور صرف 1995 سے 2013 تک تشدد کے باعث 30 ہزار افراد کی جانیں گئیں.

انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے جو نمائندے 2013 میں تھے وہ اب بھی ہیں اور جو نمائندے پہلے رابطے میں تھے وہ ابھی تبدیل نہیں ہوئے ہیں جب رینجرز کو پولیس کو پولیس کا کردار ملنے پر رینجرزکی سیاسی جماعتوں سے بات تو ہوگی تاہم معاہدہ ٹوٹنے کی ذمہ داری میں کسی شخصیت کا نام نہیں لوں گا.

ڈی جی رینجرز نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سب سیاست کریں لیکن تشدد کا عنصر نہ ہو کیوں کہ ہمارا مقصد ہے کہ اتنی قربانی کے بعد کراچی میں دوبارہ سے ماضی جیسےحالات نہ پیدا ہوجائیں البتہ معاہدے میں کب لکھا ہے کہ کسےووٹ دیا جائے یا کس سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنی ہے.

ڈی جی رینجرز جنرل محمد سعید نے کہا کہ ہماری ایک ہی شرط ہے جو ماضی میں ہوا دوبارہ نہیں ہونا چاہیے چنانچہ کراچی آپریشن کیلئے تمام جماعتوں سے بات ہوتی رہتی ہے تاہم خواجہ اظہار الحسن کے ہاتھ سے لکھے معاہدے کا ان ہی سے پوچھیں، دونوں جماعتوں کو فرداً فرداً کہا کہ ماضی جیسی بدامنی پھر نہ ہو.

ڈی جی رینجرز نے کہا کہ کراچی میں رینجرز نے 11 ہزار آپریشنز کیے جس کے لیے انٹیلی جنس اداروں کی سپورٹ بھی شامل حال رہی اور آپریشن میں گرفتار افراد کا تعلق کسی نہ کسی جماعت سے ہوتا ہے جس کے بعد گرفتار افراد کے اہل خانہ اور قائدین رینجرز سے رابطہ کرتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے ملنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اںضمام کے بعد انہیں کیسی سیاست کرنی ہے یہ ان کی مرضی ہے ہمارا بس اتنا کہنا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ اور ہنگامہ آرائی نہیں ہونی چاہیے اس سے قبل لانڈھی الیکشن میں تصادم کی صورت حال پر ہم نے ایکشن لیا.

ڈی جی رینجرز سندھ نے کہا کہ مصطفیٰ کمال نے جو کہا وہ ان کا اپنا موقف ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ 22 اگست کی متنازعہ تقریر کے بعد جو مسائل پیدا ہوئے اس کی وجہ سے میڈیا ہاؤسز پر حملے ہوئے 12 گاڑیاں جلیں پولیس پر فائرنگ ہوئی اور ایک شخص جاں حق ہوا جس پر فاروق ستار و عامر خان کے خلاف مقدمات درج ہوئے اور وہ اب بھی چل رہے ہیں۔

ڈی جی رینجرز نے سوال کیا کہ اگر رینجرز نے ایم کیو ایم پاکستان بنائی ہوتی تو کیا یہ مقدمات اب تک چلتے؟ فاروق ستار کے خلاف مقدمے میں رینجرز خود فریق ہے تو کیا فاروق ستار نے ہماری بات مانی؟

ڈی جی رینجرز کا مزید کہنا تھا کہ لیاری گینگ وار شہر کی تاریخ کا خوف ناک ترین پہلو ہے، لیاری میں فٹبال ہوتی ہے، اب لوگ کھلےدل سے وہاں جاسکتےہیں، انہوں نے بتایا کہ لیاری گینگ وار کا سربراہ عزیربلوچ رینجرز کی تحویل میں نہیں ہے، سیاست میں بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ نہیں ہونی چاہیے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں