The news is by your side.

Advertisement

آن لائن منشیات فروش نیٹ ورک کی سرکوبی کے لیے حکمت عملی تیار

کراچی : پولیس، رینجرز، انسداد منشیات فورس اور دیگر تحقیقاتی اداروں نے آئن لائن منشیات فروشی کے نیٹ ورک توڑنے اور نوجوانوں کو اس زہر سے محفوظ رکھنے کے لیے مشترکہ اور منظم آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے.

اے آر وائی نیوز پر آن لائن منشیات فروشی کی خبر نشر ہوتے ہی ادارے متحرک ہوگئے اور پولیس، رینجرز، اے این ایف اور دیگر اداروں نے کارروائیاں تیز کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے لیے تمام ادارے آپس میں موثر اور مربوط رابطے رکھیں گے تاکہ نوجوانوں کو ہلاکت میں ڈالنے والوں کی سرکوبی کی جا سکے گی.

ڈی آئی جی ساؤتھ آزاد خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس اور رینجرز منشیات فروشی کے خلاف کارروائیاں کررہی ہیں اور کئی گروہ کا قلع قمع کردیا گیا ہے اور بڑی مقدار میں منشیات ضبط کی ہیں جس کے بعد منشیات فروشی کے نیٹ ورک کمزور پڑ گئے ہیں اور اب آن لائن کام کر رہے ہیں.

ڈی آئی جی ساؤتھ نے کہا کہ آئس ڈرگ میں مہلک کیمیکلزملا کر اسے مزید مہلک بنایا جا رہا ہے جس کے استعمال سے نشہ کرنے والے نوجوانوں کا جسم کھوکھلا ہوجاتا ہے جو نہایت خطرناک ہے.

یہ پڑھیں :  سوشل میڈیا پر نوجوان لڑکے لڑکیوں کو منشیات فروخت کرنے والے 4 کارندے گرفتار

ڈی آئی جی ساؤتھ آزاد خان نے کہا کہ زیر حراست ملزمان اسکول اور کالجزسمیت ہرجگہ یہ نشہ پھیلا رہے تھے جن کی گرفتاری بڑی کامیابی ہے جس کا شہراہ سندھ پولیس کو جاتا ہے.

اس موقع پر ایس ایس پی ایس آئی یو طارق دھاریجو کا کہنا تھا کہ منشیات کی نوجوان طالب علموں تک بآسانی رسائی اداروں اور جامعات کے ساتھ ساتھ والدین کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے شوقیہ منشیات استعمال کرنے کے بعد یہ نوجوان اسٹریٹ کرائم اور دیگر جرائم میں ملوث ہوجاتے ہیں.

 یہ بھی پڑھیں : پاکستان سے یو اے ای واٹس ایپ کے ذریعے منشیات فروخت کرنے والا گرفتار

طارق دھاریجو کا کہنا تھا کہ ایس آئی یو بھی انسداد منشیات کے خلاف بھرپور کردار ادا کررہی ہے اور منشیات فروشوں کے خلاف جاری آپریشن میں کئی گروہ کو اپنے شکنجے میں جکڑ کر قانون کے حوالے کیا ہے.


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں