ڈھاکا (10 مئی 2026): بنگلہ دیش کے خلاف ڈھاکا ٹیسٹ میں ڈیبیو کرنے والے اذان اویس نے شاندار سنچری اور عبداللہ فضل نے نصف سنچری اسکور کی۔
بنگلہ دیش کے خلاف دو ٹیسٹ پر مشتمل سیریز کے ڈھاکا میں کھیلے جا رہے پہلے میچ میں پاکستان ٹیم کی بیٹنگ لائن شاندار ابتدا کے بعد لڑکھڑا گئی لیکن ڈیبیو کرنے والے دو بلے بازوں نے سنچری اور نصف سنچری کر کے اپنے روشن مستقبل کی نوید سنا دی۔
بنگلہ دیش کے خلاف ڈھاکا ٹیسٹ میں جہاں پاکستان کے کپتان، نائب کپتان سمیت تجربہ کار بلے باز ناکام ہوئے وہیں ڈیبیو کرنے والے دو بلے بازوں نے سنچری اور نصف سنچری کر کے اپنے روشن مستقبل پر دستک دے دی ہے۔
سینئر بیٹر امام الحق کے ساتھ ڈیبیو کرنے والے اذان اویس نے اوپننگ کا آغاز کیا تو ان کا بلا سنچری کرنے کے بعد ہی رُکا۔
21 سالہ اذان اویس نے اپنے پہلے ٹیسٹ میچ میں 153 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 103 رنز بنائے۔ ان کی شاندار سنچری 14 چوکوں سے سجی ہوئی تھی۔
وہ اپنے اولین ٹیسٹ میچ میں سنچری بنانے والے کھلاڑیوں کے کلب میں شامل ہونے والے 14 ویں بیٹر بن گئے ہیں۔
ان کے علاوہ عبداللہ فضل نے بھی اپنے پہلے ٹیسٹ میں نصف سنچری بنا کر اپنے روشن مستقبل پر دستک دے دی ہے۔ وہ ایک چھکے اور 7 چوکوں کی مدد سے 60 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹے۔
ڈھاکا ٹیسٹ میں بنگلہ دیش کی پہلی اننگ 413 رنز کے جواب میں پاکستان ٹیم نے تیسرے روز کھانے کے وقفے تک 5 وکٹوں کے نقصان پر 283 رنز بنا لیے ہیں اور انہیں پہلی اننگ کا خسارہ ختم کرنے کے لیے 130 رنز درکار ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


