بالی ووڈ اداکارہ دیا مرزا نے ایک پوڈ کاسٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ان کے والدین میں طلاق نے ان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈال دیا تھا۔
44 سالہ اداکارہ نے سوہا علی خان پوڈ کاسٹ میں گفتگو کے دوران کہا کہ ان کے والد انتہائی اصول پسند انسان تھے اور مالی مشکلات کے باوجود کبھی اپنے نظریات پر سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔ انھوں نے کہا ’’میرے والد ہر قیمت پر اپنے اصولوں پر قائم رہتے تھے اور غیر اخلاقی کام کرنے سے انکار کر دیتے تھے، چاہے مالی مشکلات ہی کیوں نہ ہوں۔‘‘
دیا نے کہا میرے والدین کی علیحدگی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ والد اس بارے میں بہت مضبوط مؤقف رکھتے تھے کہ وہ کس قسم کے منصوبوں پر کام کریں گے اور کن پر نہیں۔ انھوں نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ والد نے ایک ایسی فیکٹری میں کام کرنے سے انکار کر دیا تھا جو صنعتی فضلہ قریبی دریا میں پھینکتی تھی، اس واقعے سے والدین کے درمیان بڑا اختلاف پیدا ہوا۔
انھوں نے کہا ’’مجھے یاد ہے کہ میرے والدین کے درمیان اس معاملے پر ہونے والی سب سے شدید بحثوں میں سے ایک یہی تھی۔ میرے والد نے کہا ’نہیں، میں یہ نہیں کروں گا۔‘ اور میری والدہ نے کہا ’’بل کون ادا کرے گا؟ میرا مطلب ہے، ہمیں اس کی تعلیم کے اخراجات بھی ادا کرنے ہیں۔ اتنے سارے خرچے ہیں، اور ہمارے پاس یہ آسائش نہیں کہ ہم انکار کر سکیں۔‘ اس پر میرے والد نے کہا نہیں، لیکن ہمارے پاس ہمیشہ ایک انتخاب موجود ہوتا ہے۔‘‘
جواد احمد کی باتوں سے لطف اندوز ہوتا ہوں، ابرار الحق
دیا مرزا کے مطابق اُس وقت خاندان کو مالی مشکلات کا سامنا تھا لیکن والد نے پیسے کمانے کی بجائے اپنے اصولوں کو ترجیح دی اور غیر اخلاقی کام قبول نہیں کیا۔ انھوں نے کہا ’’اس واقعے نے میری زندگی پر گہرا اثر چھوڑا اور مجھے دیانت داری، سماجی ذمے داری اور صحیح فیصلے کرنے کی اہمیت سکھائی۔‘‘
انھوں نے مزید بتایا کہ اپنے ابتدائی برسوں کا بڑا حصہ انھوں نے اپنے منہ بولے والد کے ساتھ کھلی فضا میں گزارا، جہاں وہ کشتی رانی، ٹریکنگ اور اپنے اردگرد کی قدرتی دنیا کی کھوج میں مصروف رہتی تھیں۔ آم، امرود اور چیکو کے درختوں سے گھرے ماحول میں پرورش پانے کے باعث ان کے دل میں کم عمری ہی سے ماحولیات کے لیے گہری قدر پیدا ہو گئی تھی۔
بعد ازاں پروگرام کے دوران دیا نے اپنی زندگی کے ایک اہم موڑ کے بارے میں بھی بات کی، جب پیشہ ورانہ کامیابی انھیں مزید اطمینان بخش محسوس نہیں ہوتی تھی۔ اس دور کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’’میں نے 2005 میں کام سے وقفہ لیا۔ اپنے کیریئر کے اُس مرحلے پر، جسے عموماً عروج کا زمانہ سمجھا جاتا ہے، میں نے دو سال کی رخصت اختیار کی۔‘‘
انھوں نے بتایا کہ جب وہ 24 برس کی تھیں تو انھوں نے خود سے کہا ’’مجھے اپنا کام پسند نہیں آ رہا۔ مجھے اس میں مزہ نہیں آ رہا۔ میں نے پیسہ کما لیا ہے، میں خودمختار ہوں۔ اس شہر میں میرا اپنا گھر ہے، جو اب میرا شہر بن چکا ہے کیوں کہ اس نے مجھے قبول کیا ہے۔ مجھے اپنے بلوں کی فکر بھی نہیں، لیکن یہ سب مجھے خوشی نہیں دے رہا۔‘‘
اسی موقع پر انھیں احساس ہوا کہ انھیں دوبارہ اپنی اصل ذات کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے۔ دیا نے کہا ’’یہ گویا اپنے گھر واپس آنے جیسا تجربہ تھا، اور تب سے میں ان کہانیوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے میں کامیاب رہی ہوں جو کسی نہ کسی انداز میں میرے اقداری نظام سے جڑی ہوئی ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ دیا مرزا طویل عرصے سے ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے حوالے سے سرگرم آواز سمجھی جاتی ہیں اور مختلف عالمی و سماجی مہمات کا حصہ بھی رہ چکی ہیں۔


