پاکستان میں ذیابیطس کا وبا کی صورت پھیلاؤ -
The news is by your side.

Advertisement

پاکستان میں ذیابیطس کا وبا کی صورت پھیلاؤ

کراچی: ماہرین صحت نے متنبہ کیا ہے کہ پاکستان میں ذیابیطس وبا کی صورت پھیل رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں اس وقت 70 لاکھ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں اور اگلے 20 سالوں میں یہ تعداد ڈیڑھ کروڑ ہوجائے گی۔

ذیابیطس دراصل اس وقت ہمارے جسم کو اپنا شکار بناتا ہے جب ہمارے جسم میں موجود لبلبہ درست طریقے سے کام کرنا چھوڑ دے اور زیادہ مقدار میں انسولین پیدا نہ کر سکے، جس کے باعث ہماری غذا میں موجود شکر ہضم نہیں ہو پاتی۔

یہ شکر ہمارے جسم میں ذخیرہ ہوتی رہتی ہے جو شوگر کی بیماری کے علاوہ بے شمار امراض پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔

ذیابیطس کی عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ذیابیطس ایک وبا کی صورت اختیار کرگئی ہے۔

مزید پڑھیں: فوری توجہ کی متقاضی ذیابیطس کی 8 علامات

عالمی ذیابیطس فیڈریشن کے مطابق پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی موجودہ تعداد تقریباً 70 لاکھ ہے، اور محتاط اندازوں کے مطابق سنہ 2040 تک یہ تعداد ایک کروڑ 44 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

طبی ادارے صنوفی اور ذیابیطس ایسوسی ایشن آف پاکستان کی جانب سے منعقد کی گئی اس کانفرنس میں پاکستان کے چوٹی کے ماہرین طب اور دنیا بھر سے ماہرین ذیابیطس نے شرکت کی۔

ماہرین نے بتایا کہ ذیابیطس کا شکار حاملہ خواتین کی تعداد پاکستان میں دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق ملک میں ذیابیطس کے مریضوں کی بڑی تعداد غیر تشخیص شدہ ہے جو مرض کو خطرناک کرنے کا باعث بنتی ہے۔

غیر متحرک طرز زندگی صحت کا دشمن

دنیا بھر کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ غیر متحرک طرز زندگی اور ورزش نہ کرنا ذیابیطس سمیت بے شمار بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔ کانفرنس میں شریک ماہرین نے روزانہ دس ہزار قدم چلنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ 22 سال کی عمر سے روزانہ باقاعدگی سے 10 ہزار قدم چلنے والا کسی بھی دائمی مرض کا شکار نہیں ہوگا۔

اس سے قبل کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ایسے افراد جن میں ذیابیطس کا مرض ابتدائی مراحل میں ہو وہ اگر اپنے معمول سے صرف بیس منٹ زیادہ روزانہ پیدل چلیں تو ان میں ذیابیطس کا مرض کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

ایسے افراد میں ہارٹ اٹیک اور دیگر امراض قلب میں بھی 8 فیصد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔

مزید پڑھیں: ذیابیطس کا آسان اور قدرتی علاج

کانفرنس میں ماہرین نے فاسٹ فوڈ اور سوڈا مشروبات کو صحت کے لیے تباہی پھیلانے والے مہلک ہتھیاروں کے مترادف قرار دیا۔

ماہرین طب نے متفقہ تجویز دی کہ ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے صحت مند طرز زندگی اپنایا جائے اور ذیابیطس کی باقاعدہ اسکریننگ کروائی جائے۔ انہوں نے آئی ڈی ایف کی ہدایت ’کم کھائیں، زیادہ چلیں‘ (Eat less, walk more) پر عمل کرنے کی بھی تاکید کی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل عالمی ادارہ صحت بھی متنبہ کر چکا ہے کہ پاکستان کی آبادی کا 10 فیصد حصہ ذیابیطس یا شوگر کے مرض کا شکار ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان اس وقت ذیابیطس کے مریضوں کا ساتواں بڑا ملک ہے جبکہ سنہ 2030 تک یہ چوتھا بڑا ملک بن جائے گا جو ایک تشویش ناک بات ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں