The news is by your side.

پاکستان میں ہر چوتھا شخص ذیابیطس کا شکار

کراچی: ماہرین طب کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہر 4 میں سے ایک شخص ٹائپ 1 ذیابیطس کا شکار ہے، انہوں نے زور دیا کہ والدین 5 سال کی عمر سے ہی بچوں کو فاسٹ فوڈ اور سوڈا مشروبات سے پرہیز کروائیں۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں منعقد ہونے والی چھٹی سالانہ ذیابیطس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی مقررین نے ذیابیطس کو ایک اہم مسئلہ قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ انسانی صحت کے ساتھ ساتھ یہ معمولات زندگی اور معاشی حالات کو بھی متاثر کرتا ہے۔

مقررین نے بتایا کہ پاکستان میں 20 سال یا اس سے بڑی عمر کا ہر چوتھا فرد ٹائپ 1 ذیابیطس کا شکار ہے۔ ذیابیطس کے باعث پیروں کو لاحق ہونے والی بیماری کے بارے میں بتاتے ہوئے پروفیسر جیری رے مین نے بتایا، ’ذیابیطس کے مریضوں کے خون میں شوگر کی زائد مقدار کے باعث پیروں اور دیگر بیرونی اعضا میں محسوس کرنے والے اعصاب کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اس مرض کی بروقت تشخیص کے لیے پیروں کا باقاعدگی سے مکمل طبی معائنہ ضروری ہے جس سے فٹ السر جیسے عوارض سے تحفظ ممکن ہو سکتا ہے‘۔

ذیابیطس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل پروفیسر عبد الصمد شیرا نے ایک صحت مند طرزِ زندگی اپنانے اور ذیابیطس کے باقاعدگی سے معائنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں ذیابیطس ایک وبائی مرض کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

مزید پڑھیں: فوری توجہ کی متقاضی ذیابیطس کی 8 علامات

انہوں نے انٹرنیشنل ڈایابیٹز فیڈریشن کی ہدایت ’کم کھائیں اور زیادہ چلیں‘ پر سنجیدگی سے عمل کرنے پر بھی زور دیا۔

پروفیسر عبد الصمد کا کہنا تھا کہ والدین 5 سال کی عمر سے ہی بچوں کو فاسٹ فوڈ اور سوڈا مشروبات سے پرہیز کروانا شروع کردیں۔ یہ وزن میں اضافے کا سبب ہیں اور موٹاپا ٹائپ 2 ذیابیطس کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ اسکول کی سطح سے ہی ذیابیطس کی تشخیص اور علاج کے لیے قومی صحت پالیسی میں اصلاحات کی ضرورت ہے کیونکہ بروقت تشخیص اور فوری علاج ہی اس بیماری کے باعث لاحق ہونے والی پیچیدگیوں سے بہتر تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں