اسلام آباد (06 دسمبر 2025): ذیابیطس دنیا بھر میں عالمی صحت ایک ایک بڑھتا ہوا بحران بنتا جا رہا ہے، جہاں تخمینوں کے مطابق اس وقت 589 ملین بالغ افراد (عمر 20–79 سال) اس مرض کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، یعنی ہر 9 میں سے 1 بالغ شوگر کا شکار ہے، مزید اندازے بتاتے ہیں کہ 2050 تک یہ تعداد بڑھ کر 853 ملین تک پہنچ سکتی ہے۔
پاکستان میں صورت حال خاص طور پر تشویش ناک ہے، تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بالغوں میں ذیابیطس کی شرح پھیلاؤ 31.4 فی صد ہے، یعنی تقریباً 3 کروڑ 45 لاکھ افراد، جو شرح کے لحاظ سے پاکستان کو دنیا میں سب سے زیادہ ذیابیطس کے بوجھ والا ملک بناتا ہے۔
اسلام آباد میں قائم پاکستان انسٹی ٹیوشن آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں ذیابیطس او پی ڈی وزٹس اور داخل مریضوں کی دیکھ بھال کا بڑا حصہ بن چکا ہے، جہاں مریض بڑی تعداد میں پیچیدگیوں جیسے ڈایابیٹک فٹ، نیوروپیتھی اور گردوں کے مسائل کے ساتھ پیش ہوتے ہیں۔ یہ بڑھتا ہوا بوجھ مستقبل میں دستیاب اسپتال وسائل کے لیے شدید دباؤ کا باعث بن سکتا ہے، اندازہ ہے کہ پمز میڈیکل او پی ڈی میں تقریباً 10 ہزار یا اس سے زائد مریض ذیابیطس کے لیے باقاعدہ فالو اپ پر ہیں، اور یہ تعداد ہر ماہ مسلسل بڑھ رہی ہے۔
اکتوبر کے آخر سے نومبر 2025 تک جنرل میڈیسن ڈپارٹمنٹ نے پروفیسر ڈاکٹر شِفات خاتون کی قیادت میں مختلف تعلیمی و آگاہی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع کیا جن میں آئی ایم سی بی H-9/4 اسلام آباد اور کامسیٹس یونیورسٹی میں منعقدہ پروگرام بھی شامل تھے۔ 19 سے 26 نومبر تک پمز میں پری کانفرنس ورکشاپ اور مرکزی ’’ورلڈ ڈایابیٹیز ڈے 2025‘‘ کانفرنس منعقد ہوئی، جن میں طرزِ زندگی سے متعلق گروپ سیشنز، اے آئی اِن میڈیسن تربیتی ورکشاپ، کلیدی تقاریر، پینل مباحثے اور عوامی آگاہی پروگرام شامل تھے۔
بےنظیر بھٹو میڈیکل کالج لیاری میں ایڈوانس سرجری، ربوٹ نے مریضہ کا ٹیومر نکالا
جنرل میڈیسن ڈیپارٹمنٹ اور متعدد شعبوں کے معالجین پر مشتمل ایک آگاہی پروگرام بھی منعقد کیا گیا جس میں متوازن غذا، کم چینی، باقاعدہ ورزش، اسٹریس میں کمی اور معمول کی اسکریننگ جیسے احتیاطی اقدامات پر زور دیا گیا۔ یہ تمام مربوط سرگرمیاں اس بات کی واضح عکاس ہیں کہ پمز بڑھتی ہوئی ذیابیطس کی وبا سے نمٹنے کے لیے کمیونٹی تک رسائی، احتیاطی تعلیم، ابتدائی اسکریننگ اور جدید طبی تربیت کے ذریعے اپنے عزم کو مضبوطی سے جاری رکھے ہوئے ہے۔
جہانگیر خان اے آر وائی نیوز اسلام آباد کے نمائندے ہیں۔ وہ پارلیمانی امور، صحت، کشمیر، جی بی اور پیپلز پارٹی سے متعلق خبریں رپورٹ کرتے ہیں۔



