The news is by your side.

Advertisement

ذیابیطس:‌ فالج کا خطرہ کس صورت میں بڑھ جاتا ہے؟‌

طبی ماہرین نے ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریضوں کے فالج سے متاثر ہونے کی وجوہات کا پتہ لگالیا۔

کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ اسٹاک ہوم، گوتھنبرگ یونیورسٹی اور نیشنل ڈائبٹیز رجسٹری سویڈن کے ماہرین نے تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے وہ مریض جن میں انسولین مزاحمت زیادہ ہوتی ہے انہیں فالج کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسولین مزاحمت (انسولین ریزسٹنیس) میں ہمارے جسمانی خلیے انسولین استعمال کرکے خون میں موجود شکر (گلوکوز) جذب کرنے، توڑنے اور توانائی بنانے میں دشواری کا سامنا کرتے ہیں جس کی وجہ سے خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس کے باعث لبلبے کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

تحقیق میں معلوم ہوا کہ جن مریضوں میں انسولین کی مزاحمت زیادہ تھی وہ پانچ برس کے دوران ایک مرتبہ فالج کی زد میں لازمی ہوئے جب کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کے جن مریضوں میں انسولین کی مزاحمت کم تھی وہ فالج کے خطرے سے چالیس فیصد محفوظ تھے۔

واضح رہے کہ ذیابیطس کو دنیا کی سب سے ہلاکت خیز امراض میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2019 میں ذیابیطس کی وجہ سے 15 لاکھ جب کہ 2012 میں 22 لاکھ افراد لقمہ اجل بنے تھے۔

محققین کا کہنا ہے کہ انسولین مزاحمت پر قابو پانے کےلیے وزن کم رکھنا، صحت بخش غذا استعمال کرنا، روزانہ تقریباً 30 منٹ کی جسمانی مشقت (بشمول تیزی سے چہل قدمی) اور ڈاکٹر کی تجویز کردہ دواؤں کا پابندی سے استعمال ضروری ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں