The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں ڈائریا اور گیسٹرو نے خطرناک شکل اختیار کر لی

کراچی : کراچی میں ڈائریا اور گیسٹرو نے خطرناک شکل اختیار کر لی ، سیوریج کے پانی کی نکاسی کا نہ ہونا، کچرے اور گندگی کے ڈھیر بچوں میں ڈائریا اور گیسٹروں کی وجہ بن کر سامنے آئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں گیسٹرو اور ڈائریا کے کیسز میں تین گنا اضافہ ہوگیا ہے ، این آئی سی ایچ ڈی کے سربراہ ڈاکٹر جمال رضاکے مطابق سندھ گورنمنٹ چلڈرن اسپتال میں ڈائریا کے 1100 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر جمال رضا کا کہنا تھا کہ بارش اور عیدالاضحی کے بعد یومیہ ڈیڑھ سو کیسز رپورٹ ہورہے ہیں، قومی ادارہ برائے امراض اطفال میں دو روز کے دوران ڈائریا کے کیسز کی تعداد 850 ہے۔

این آئی سی ایچ ڈی کے سربراہ نے مزید کہا سیوریج کے پانی کی نکاسی کا نہ ہونا، کچرے اور گندگی کے ڈھیر بچوں میں ڈائریا اور گیسٹروں کی وجہ بن کر سامنے آئے ہیں ۔

دوسری جانب پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق گندگی کے ڈھیر اور گھروں میں سیوریج کا پانی ڈاہریا وبائی شکل اختیار کر گیا ہے ، سندھ گورنمنٹ اسپتال سعود آباد میں دس روز کے دوران ڈایریا اور گیسٹرو کے تین ہزار کسز سامنے آئے ہیں۔

خیال رہے بارش اور عید قرباں گزرنے کے باوجود بھی شہر قائد کی گلیاں اور چوراہے کچرہ کنڈی کا منظر پیش کررہے ہیں۔ سڑکوں پر جمع سیورج کا پانی اور غلاظت مچھروں کی افزائش کا سبب بن رہی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی صفائی مہم غیر موثر ہوگئی ، صوبائی اور شہری حکومتیں بھی کراچی رین ایمرجنسی پلان اور عید قربان کے بعد آلائشوں کو ٹھکانے لگانے میں ناکام رہی۔

کراچی میں بلدیہ ٹاوٴن، اورنگی ٹاوٴن، ملیر، الفلاح، سعودی نارتھ ناظم آباد، پاک کالونی، نارتھ کراچی سمیت درجنوں ایسے مقامات ہیں جہاں سے ہنگامی بنیادوں پر صفائی ستھرائی کیلئے انتظامات کرنے کی ضرورت ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں