The news is by your side.

Advertisement

پیدائشی معذور سعودی بچی نے حوصلے کی نئی مثال قائم کردی

ریاض: سعودی عرب میں ہاتھوں سے محروم کمسن بچی نے ہمت اور حوصلے کی نئی مثال قائم کردی، بچی نہ صرف ماہر تیراک اور مصورہ ہے بلکہ گھر کے کاموں میں بھی والدہ کا ہاتھ بٹاتی ہے۔

سعودی ویب سائٹ کے مطابق پیدائشی طور پر ہاتھوں سے محروم کم عمر سعودی بچی نے جسمانی معذوری کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے حوصلے اور ہمت کے بل بوتے پر نہ صرف تیراکی میں مہارت حاصل کی بلکہ وہ انتہائی خوبصورت ڈرائنگ بھی بناتی ہے۔

طرفہ عبد العزیز نامی کمسن بچی پیدائشی طور پر ہاتھوں سے محروم ہے مگر مثالی ذہنی صلاحیتوں نے اسے جسمانی معذوری کا احساس ہونے نہیں دیا۔ طرفہ دونوں ہاتھوں سے محروم ہونے کے باوجود اپنی والدہ کے ساتھ ہر کام آسانی سے کرتی ہے۔

ایک سعودی ٹی وی کے پروگرام میں طرفہ نے بتایا کہ وہ اپنے گھر آنے والے مہمانوں کے لیے نہ صرف قہوہ پیش کرتی ہے بلکہ اپنی والدہ کے ساتھ باورچی خانے میں ان کی مدد بھی کرتی ہے۔

بچی کے والد نے بتایا کہ جب اہلیہ نے انہیں بتایا کہ طرفہ تیراکی میں خاص دلچسپی رکھتی ہے تو اس کے شوق کی تکمیل کے لیے اسے مخصوص افراد کو تیراکی کی تربیت دینے والے ادارے میں داخل کروایا جہاں اس نے اپنے شوق کی تکمیل کے لیے بہت جلد تیراکی پر عبور حاصل کرلیا۔

والد کا مزید کہنا تھا کہ ان کی بیٹی پیدائشی طور پر معذور ہے لیکن اس نے کبھی اس معذوری کو اپنی کمزوری نہیں بنایا بلکہ ہمیشہ عام بچوں کی طرح ہر کام کرنے کی کوشش کی جس پر ہم رب کریم کا شکر ادا کرتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں