The news is by your side.

Advertisement

مستونگ حملہ، ملوث گروہ سے متعلق پیشرفت ہوئی، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی

صوبے کے دیگر سیاسی رہنماؤں پر حملے کا خدشہ ہے

اسلام آباد: ڈائریکٹر جنرل کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ بلوچستان اعتزاز گورایہ نے کہا ہے کہ مستونگ حملے میں ملوث گروہ سے متعلق پیش رفت ہوئی ہے، دہشت گرد سیاسی جماعت کے لوگوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔

اے آر وائی کے پروگرام پاور پلے میں میزبان ارشد شریف کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز گورایہ کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے مستونگ حملے کے مقام پر کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ موجود نہیں تھا۔

ڈائریکٹر جنرل کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ بلوچستان اعتزاز گورایہ نے کہا ہے کہ صوبے کے دیگر سیاسی رہنماؤں پر حملے کا خدشہ ہے، دہشت گرد سیاسی جماعت کے لوگوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: سانحہ مستونگ کی تحقیقات، پنجاب فرانزک ایجنسی ٹیم کوئٹہ پہنچ گئی

ڈی جی سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ حملے میں ملوث گروہ سے متعلق اہم پیش رفت ہوئی جس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ بلوچستان کے علاقے درینگر میں لوگوں کی گاڑیوں اسی طرز کے حملے ہوچکے ہیں، دہشت گردوں کو پکڑنے کے لیے مقامی لوگوں کی مدد درکار ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ مستونگ میں دہشت گردنےبالکل اسٹیج کےسامنے آکر اُس وقت حملہ کیا جب زیادہ تر لوگ کھڑےہوئے تھےاس لئے نقصان زیادہ ہوا اور شامیانے کی جگہ تنگ ہونے سے لوگوں کو بال بیرنگ لگے اور 149 افراد جاں بحق ہوئے۔

واضح رہے مستونگ کےعلاقے درینگڑھ میں بلوچستان عوامی پارٹی کی کارنر میٹنگ میں خود کش دھماکا ہوا تھا، ہر جانب زخمی اورلاشیں بکھر گئیں، خودکش دھماکے میں سابق وزیراعلی بلوچستان کے بھائی سراج رئیسانی سمیت 149 افراد نے جام شہادت نوش کیا جبکہ 146 زخمی ہوئے ۔

مزید پڑھیں: سانحہ مستونگ کے مزید زخمی دم توڑ گئے‘ شہدا کی تعداد 149 ہوگئی

حملے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے پی پی 35 سے کھڑے ہونے والے  امیدوار سراج رئیسانی بھی شہید ہوئے تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں