بدھ, فروری 11, 2026
اشتہار

مردہ جانوروں کا گوشت دکانوں اور ہوٹلوں پر سپلائی کرنے کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے

اشتہار

حیرت انگیز

لاہور : ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کامران فیصل نے مردہ جانوروں کا گوشت دکانوں اور ہوٹلوں پر سپلائی کرنے کے حوالے سے اہم انکشافات کئے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں مردہ جانوروں کا گوشت دکانوں اور ہوٹلوں پر کھلانے کا انکشاف ہوا ہے، اور وہ بھی ایسے جانوروں کا جنہیں زہر کھلاکر مارا جاتا، اور پھر ذبح کرکے ان کا گوشت سپلائی کیا جاتا رہا۔

گرین ٹاؤن کے علاقے میں کئی ماہ سے پالتو جانور پراسرار طور پر ہلاک اور غائب ہو رہے تھے، سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے معاملہ بے نقاب ہوا، جس کے بعد علاقہ مکینوں نے شاہد نامی ملزم کو پکڑا۔

ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ جانوروں کے چارے میں زہر ملاتا تھا اور جب جانور مرجاتے تو دوست کے ساتھ مل کر مردہ جانوروں کو کچرا کنڈیوں سے اٹھا کر ان کا گوشت بنا کر ہوٹلوں میں فروخت کرتا رہا تاہم پولیس نے دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے آٹھ مقدمات درج کر لیے ہیں۔

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کامران فیصل نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ قصائی 2 ہزار روپے میں مردہ بکرا خریدتا تھا اور پھر اسے مختلف جگہوں پر سپلائی کرتا تھا تاہم ملزمان ریمانڈ پر ہیں اوراور مزید انکشافات سامنے آئیں گے۔

ڈی آئی جی نے مزید بتایا کہ عوام کی اطلاع اور ہیومن انٹیلی جنس کی مدد سے علاقے میں جانوروں کی ہلاکتوں کے سلسلے میں ملزم کا سراغ لگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ون فائیو پر کال کی گئی کہ میرے بکرےکو زہر دے کر مارا گیا اور لوگوں نے اطلاع دی تھی کہ یہ شخص یہاں گھومتا رہتا ہے، ہیومن انٹیلی جنس سے پتہ چلا کہ اس علاقے میں جتنے بکرے مرتے ہیں، یہ شخص نظر آتا ہے۔

مزید پڑھیں : پالتو جانور ہلاک اور غائب ہونے لگے، مردہ جانوروں کا گوشت فروخت

ملزم کے خلاف مقدمات میں آلہ قتل اور ڈنڈا بھی برآمد کر لیا گیا ہے، اور پولیس نے مزید شواہد اکٹھے کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں