نوسر بازی کو اگر ہم پیشہ کہہ سکتے ہیں تو یہ سلسلہ قدیم دور سے آج تک جاری ہے اور جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں بھی لوگوں کو مختلف شکلوں میں فراڈ کا سامنا ہے۔ خاص طور پر بینک اکاؤنٹ صارفین اور دوسرے ذرائع سے آن لائن لین دین میں لوگ دھوکے بازی اور جعل سازی کا شکار ہورہے ہیں۔
اس جدید اور ڈیجیٹل میڈیا کے دور سے پہلے نوسر باز میلوں ٹھیلوں میں، بازاروں اور بس اسٹاپوں پر، ریلوے اسٹیشن یا بسوں میں دورانِ سفر اپنا ‘شکار’ تلاش کرتے پھرتے تھے۔ آج بھی نوسر باز مرد اور عورتیں انفرادی طور پر اور بعض اوقات گروہ کی شکل میں یہ کام کررہی ہیں۔ آپ نے سنا ہو گاکہ یہ نوسر باز چکنی چپڑی باتیں کرکے عام لوگوں کا اعتماد جیت لیتے ہیں۔ پھر کسی بہانے کچھ کھلا پلا کر بے ہوش کر دیتے ہیں اور موقع پاتے ہی ان کی قیمتی اشیاء اٹھا کر رفو چکر ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے سفر پر جانے سے پہلے بڑے بوڑھے ہمیشہ یہ تلقین کرتے ہیں کہ ہوشیار رہنا، کسی اجنبی سے غیر ضروری بات چیت نہ کرنا اور کوئی بھی چیز لے کر نہ کھانا، کیوں کہ وہ اجنبی ایک نوسرباز بھی ہوسکتا ہے۔ کبھی شامتِ اعمال کے نتیجے میں اگر یہ پکڑے جاتے تو لوگ ان کی خوب درگت بناتے اور اس میں اکثر ان کی جان کو بھی خطرہ ہوتا تھا۔
آج اسمارٹ فونز اور ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے جس میں دھوکا دہی، جعل سازی بھی عام بات ہے۔ نوسر باز بھی ان جدید آلات اور ٹیکنالوجی کو استعمال کر کے شہریوں کو لوٹنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس طرح نہ ان کو بازار میں گھومنے کی مشقت اٹھانا پڑتی ہے اور نہ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کا خطرہ رہا ہے، بس اپنی کمین گاہ میں بیٹھ کر یہ نوسر باز آپ کی ڈیجیٹل معلومات کی بنیاد پر آپ کی دولت ہتھیا لیتے ہیں۔
جب میں نے انٹرنیٹ کا استعمال شروع کیا اس وقت یاہو کے ای میل اکاؤنٹ میں اکثر ای میل موصول ہوتی تھی کہ ایک افریقی ملک کے بادشاہ کی بیٹی کے بینک اکاؤنٹ میں کروڑوں ڈالر پڑے ہوئے ہیں اور وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے جس کے بعد وہ اپنی رقم میرے حوالے کر دے گی۔ اس کے لیے مجھے ان کے ملک میں ایک بینک اکاؤنٹ کھولنا ہوگا۔ اس جھانسے میں آکر لوگ رقم بھی ان کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دیتے، مگر نہ شہزادی ملتی اور نہ ہی کروڑوں ڈالر بلکہ الٹا مالی نقصان ہوجاتا تھا۔ اس حوالے سے آگاہی بڑھی تو نوسربازوں نے دیگر نئے طریقے اپنا لیے۔ نوسر بازی کی ایک قسم ہنی ٹریپ بھی ہے۔ کسی خاتون کے نام اور تصویر پر مشتمل آئی ڈی بنا کر نوسر باز سادہ لوح یا لالچی لوگوں کو ٹریپ کرتے ہیں۔ انہیں ملنے کے بہانے کہیں بلاتے ہیں اور ان کو نقدی اور قیمتی اشیاء سے محروم کردیتے ہیں یا ان کو اغوا کر کے تاوان وصول کرتے ہیں۔ ہنی ٹریپ کا ایک طریقہ سستی اور کم قیمت اشیاء کی فروخت بھی ہے۔ سوشل میڈیا پیجز یا ویب سائٹ پر خرید و فروخت کے اشتہارات میں کبھی ہمیں ایسا اشتہار پڑھنے کو ملتا ہے جس میں کوئی گاڑی یا کسی کوئی مشین اور دوسرا سامان وغیرہ انتہائی کم قیمت پر فروخت کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔ رابطہ نمبر پر کال کرنے کے بعد خریدار کو یہ کہا جاتا ہے کہ وہ آکر مال دیکھ لے اور اطمینان کرنے کے بعد رقم ادا کردے۔ جب خریدار مقررہ جگہ پر پہنچتا ہے تو اسے لُوٹ لیا جاتا ہے یا پھر اغوا کر لیا جاتا ہے۔ مگر اب یہ طریقہ بھی بہت زیادہ کارگر نہیں رہا ہے۔ اب ایسے پھندے میں شکار کم ہی پھنس رہے ہیں۔ کیوں کہ سوشل میڈیا پر اور پولیس نے بسوں کے اڈوں پر بھی اس حوالے سے آگاہی پھیلانا شروع کردیا ہے۔
پاکستان میں اب ڈیجیٹل بینکاری کے بعد رقم کے نکلوانے کے لیے یا کسی فرد کو ادائیگی کے لیے کسی علاقہ میں بینک کی مخصوص برانچ پر جانے کی ضرورت ختم ہوگئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کے نیٹ ورکس اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث تنظیموں کو فنانسنگ کے خلاف ریاستی سطح پر کریک ڈاؤن بھی کیا گیا ہے۔ اور اس کا فائدہ ایک مرتبہ پھر نوسربازوں نے اٹھانے کی کوشش کی۔ انہوں نے اسے اپنی حکمت عملی کا حصہ بنایا ہے۔شاید آپ میں سے کسی کو موبائل فون پر کال کرکے کہا گیا ہو کہ یہ کال حساس ادارے کی جانب سے کی جارہی ہے اور آپ کے بینک اکاؤنٹ سے مشکوک سرگرمی کی جارہی ہے۔ آپ فوری طور پر اپنی اور اپنے اکاؤنٹ کی تصدیق کریں، بصورت دیگر آپ کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور آپ کا اکاؤنٹ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بلاک ہوجائے گا۔ اکثر لوگ گھبرا جاتے ہیں اور اس کا فائدہ وہ نوسرباز اٹھاتا ہے جو اب آپ کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات آپ ہی معلوم کرتا ہے اور آپ کے بینک اکاؤنٹ سے رقم اڑا لی جاتی ہے۔ اس دھوکہ میں بہت سے تعلیم یافتہ افراد بلکہ بینکر بھی آگئے اور اپنے سرمائے سے محروم ہوئے۔ بینکوں نے اس بارے میں آگاہی دینے اور دو سطحی تصدیقی اور مشکوک کالز کی نشان دہی کا نظام وضع کر کے اس فراڈ کا توڑ کرنے کی کوشش کی ہے۔
آج کل میں اور آپ وٹس ایپ کا استعمال کرتے ہیں جس میں ہمارے اہلِ خانہ اور تمام واقف کاروں کے نام، سم کارڈ نمبر اور دوسری تفصیلات محفوظ ہوتی ہیں۔ وٹس ایپ میں ہونے والی تبدیلیوں کو بھی نوسر بازوں نے خوب استعمال کیا ہے۔ ایک لنک یا او ٹی پی کے ذریعے نوسر باز متعلقہ فرد کا وٹس ایپ ہیک کرتے اور اس میں موجود فون نمبرز پر پیغام چھوڑتے ہیں کہ میری مدد کی جائے، میں مشکل میں ہوں۔ ایسا ہی ایک پیغام مجھے ایک کمپنی کے ایگزیکٹو کا ملا کہ انہیں مدد درکار ہے۔ میں نے جواباً خیریت کا پیغام چھوڑا تو تھوڑی دیر بعد ایک کال موصول ہوئی جس میں دوسری طرف ایف آئی اے کے افسر موجود تھے اور مجھے ہدایت کی کہ یہ وٹس ایپ ہیک ہوچکا ہے۔ اس پر مزید کوئی بات چیت نہ کریں، ہم اس کو ٹریک کر رہے ہیں۔
پاکستان میں مالیاتی دھوکہ دہی کی کیا صورتِ حال ہے اور عام بینک اکاؤنٹ ہولڈر کیسے اس کا شکار بنتا ہے اس حوالے سے ایک کانفرنس میں نجیب آگرہ والا سے بات ہوئی جو مالیاتی امور کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ون لنک کے سربراہ ہیں۔ نجیب آگرہ والا کا کہنا تھا کہ ون لنک تمام بینکوں کے لین دین کے لیے گیٹ وے کا کام کرتا ہے۔ اور اب ای گورنمنٹ کے فروغ کے لیے حکومت کے 677 اداروں کو بھی ون لنک سے منسلک کردیا گیا ہے۔ اس کے تحت اربوں کی ٹرانزیکشن میں مشکوک لین دین میں ملوث افراد کا ڈیٹا بیس تیار کر لیا ہے۔ نجیب آگرہ والا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آج کل ادائیگیوں کے نظام میں کارڈ بیس فراڈ ہوتے ہیں اور کچھ فراڈ ڈیجیٹل طریقے سے کیے جاتے ہیں۔ کارڈ بیس فراڈ میں تیزی سے کمی ہوئی ہے۔ کیونکہ اب کارڈ میں ڈیٹا کے تحفظ کے لیے چِپ لگا دی گئی ہے۔ ابھی تک چِپ کے ذریعے فراڈ کرنا اور ڈیٹا کو حاصل کرنا آسان اور سہل نہیں ہے جس سے اسکینر کے ذریعے کسی صارف کی معلومات اکٹھی کر کے فراڈ کرنے کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف ڈیجیٹل فراڈ میں اسکوفنگ ہوتی ہے جس میں سائبر کرمنل آپ کا دوست بن کر یا حکومتی پروگرام کا نام لے کر آپ کا ڈیٹا حاصل لیتے ہیں۔ اس میں پن کوڈ، بینک اکاؤنٹ نمبر اور دیگر معلومات شامل ہوتی ہے۔ اس معلومات کی بنیاد پر یہ دھوکے باز کسی بھی اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرنے میں کام یاب ہوجاتے ہیں اور اس سے رقوم نکلوا لیتے ہیں۔
نجیب آگرہ والا کا کہنا تھا کہ نوسر بازی میں ٹیکنالوجی خصوصاً مصنوعی ذہانت کے استعمال کی وجہ سے مالیاتی صنعت کو اپنے نظام کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت بڑھ گئی ہے جس کا حل وہ اپنے ادارے کے ذریعے دے رہے ہیں اور اس میں بڑے بینکوں اور مالیاتی اداروں نے ڈیوائس فنگر پرنٹنگ اور اینٹی فراڈ سلوشنز کو اپنایا ہے۔ اس خاص طریقے سے مشکوک ٹرانزیکشن کی نشان دہی چند سیکنڈز میں ہوسکتی ہے۔
غیر ملکی اداروں کے ساتھ کام کرنے سے پاکستان کی مالیاتی صنعت ان ملکوں میں ہونے والی پیش رفت اور سرحد پار سے ہونے والے دھوکہ دہی اور جعل سازی کی کوششوں میں کمی لایا ہے۔ دھوکہ دہی اور نوسر بازی کو روکنے کے لیے مصنوعی ذہانت، ڈیٹا کی جانچ اور صنعتی تعاون بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ مالیاتی نظام اور صارفین سے متعلق دھوکہ دہی میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے چین کے ایک ماہر لی رو ژاؤ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک بڑی آبادی کو دھوکہ دہی اور جعل سازی کا سامنا ہے اور نوسرباز مصنوعی ذہانت کو استعمال کرکے لوگوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ دنیا بھر میں ہونے والے تمام سائبر جرائم میں سے 41 فیصد میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جاتا ہے جس میں نوسر باز ای میلز، فون کالز اور ایپ کے ذریعے پیغامات بھیجتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق نوسر باز مالیاتی اکاؤنٹس ہائی جیک کر کے سال 2022 میں صارفین کے 11 ارب ڈالر اڑا لے گئے۔ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے ڈیجیٹل شناخت کی چوری میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس میں ڈیپ فیک آواز، اور تصویر کے استعمال میں تین ہزار فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ سال 2030 تک لوگ دھوکہ دہی اور نوسر بازی کے ذریعے 600 ارب سے زائد تک رقم گنوا بیٹھیں گے۔
لی رو ژاؤ کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات درست ہے کہ ڈیجیٹل لین دین میں اضافے اور مصنوعی ذہانت کی وجہ سے دھوکہ دہی اب بین الاقوامی جرم کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ اس دھوکہ دہی سے بچنے کے لیے حکومتوں کو اپنے اپنے ملکوں میں قانون سازی کرنا اور مالیاتی اداروں کو ان قوانین کی روشنی میں اپنے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔
مالیاتی صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جس تیزی سے ٹیکنالوجی میں تبدیلی ہورہی ہے اس تیزی سے قانون سازی نہیں ہورہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ نوسر بازوں کے بارے میں کسی بھی ملک کے متعلقہ اداروں کے پاس خاصی معلومات اور ان کا ڈیٹا ہونے کے باوجود ان کے خلاف کارروائی میں مشکلات ہیں اور متاثرہ فرد کو قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ اس حوالے سے پاکستان میں فوری اور مؤثر قانون سازی کی ضرورت ہے اور اس بات کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ فراڈ کی نئی نئی شکلوں اور تبدیل ہوتے ہوئے حالات کے مطابق اس قانون میں ضروری تبدیلی کی جاسکے تاکہ مجرموں کو سزا ملے اور لوگوں میں اپنے سرمائے کے تحفظ کا احساس پیدا ہو۔
راجہ کامران سینئر صحافی ہیں۔ کونسل آف اکنامک اینڈ انرجی جرنلسٹس (CEEJ) کے صدر ہیں۔ ان کا ٹوئٹر ہینڈل rajajournalist@ ہے۔


