ڈیجیٹل پاکستان پالیسی تشکیل، منظوری کے لیے کابینہ میں پیش ہوگی
The news is by your side.

Advertisement

ڈیجیٹل پاکستان پالیسی تشکیل، منظوری کے لیے کابینہ میں پیش ہوگی

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان انقلابی اقدامات کے بعد جدید ڈیجیٹل دور میں داخل ہوچکا، ہم سمجھتے ہیں ٹیکنالوجی ہی تیز ترقی کا راستہ ہے، ڈیجیٹل پاکستان پالیسی تشکیل دی جاچکی جسے منظوری کے لیے کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے ساتھ ہونے والی 39ویں مٹینگ میں انوشہ رحمان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چندسال میں ہم نے آئی ٹی شعبے میں نمایاں ترقی کی اور 2020 تک آئی ٹی شعبےمیں20ارب ڈالرکاہدف حاصل کرلیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ملک کی 37 فیصد آبادی موبائل فون پر تھری جی انٹرنیٹ سروس استعمال کررہی ہے، پاکستان میں انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کا استعمال بہت تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے جو ایک مثبت اشارہ ہے۔

انوشہ رحمان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ابھی بہت سے اقدامات کی ضرورت ہے، جیسے اس شعبے سے وابستہ کاروباری شخصیات کے لیے فریم ورک بنایا جائے اور انہیں سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ آئی ٹی کے شعبے میں مزید ترقی ہو۔

مزید پڑھیں: براڈ بینڈ صارفین کی تعداد تین فیصد سے بڑھ کر 38 فیصد ہوگئی، انوشہ رحمان

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’ڈییجیٹل پاکستان پالیسی تشکیل دے دی گئی ہے جسے کابینہ میں منظوری کےلیے پیش کیا جائے گا،  موجودہ حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ پالیسی کو کابینہ سے منطوری مل جائے تاکہ پاکستان اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سیکٹر سے ہم افادیت حاصل کرسکیں۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’حکومت نے اپنے اقدامات اور آئی ٹی سیکٹر سے وابستہ افراد کو ریلیف دے کر بڑے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی، ہمارا ہدف ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے سے 2020 تک 10 ارب روپے وصول ہوجاسکیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے وزیراعظم پاکستان نے آئی ٹی شعبے میں کام کرنے والے افراد کو ٹیکس سے مستشنیٰ قرار دیا ہوئے اعلان کیا تھا کہ سافٹ وئیر کے ایکسپورٹ پر صرف 5 فیصد ٹیکس ادا کیا جائے گا اس کے علاوہ کوئی ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں