The news is by your side.

Advertisement

وزارت داخلہ میں شکایت پر ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کا جواب

اسلام آباد: ڈیجیٹل ایڈووکیسی پر کام کرنے والی تنظیم ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن (ڈی آر ایف) کے خلاف وزارت داخلہ میں دی گئی شکایت پر تنظیم نے اپنا جواب جمع کروا دیا، تنظیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے غیر ملکی فنڈنگ کو کبھی نہیں چھپایا۔

تفصیلات کے مطابق وزارت داخلہ کو جمع کروائے گئے جواب میں ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن نے تسلیم کیا ہے کہ وہ غیر ملکی فنڈنگ استعمال کرتے رہے ہیں، تاہم اس بات کو انہوں نے کبھی نہیں چھپایا، دیگر معتبر این جی اوز اور سماجی تنظیموں کی طرح وہ بھی غیر ملکی فنڈنگز حاصل کرتے رہے۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ تمام غیر ملکی فنڈنگ اسٹیٹ بینک کے منظور کردہ بینکنگ چینلز کے ذریعے شفاف طریقے سے حاصل کیے جاتے ہیں، تمام فنڈنگ کی آڈٹ اسٹیٹمنٹ تنظیم کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔

ڈی آر ایف کا کہنا ہے کہ اس فنڈنگ کو معاشرے کے کمزور اور پسماندہ طبقات، خواتین اور بچوں کی ڈیجیٹل آگاہی کے لیے استعمال کیا گیا۔ فنڈ کو تنظیم کے کئی بڑے منصوبوں میں استعمال کیا گیا جن میں سے ایک سائبر ہراسمنٹ ہیلپ لائن بھی ہے۔

جواب کے مطابق منصوبے کے تحت سائبر ہراسمنٹ کا شکار افراد کو مفت مشورے دیے جاتے ہیں، علاوہ ازیں فنڈ سے سائبر کرائم کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی صلاحیت بڑھانے پر بھی کام کیا گیا۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ سالانہ آڈٹ اسٹیٹمنٹ متعلقہ اداروں کو جمع کرواتے رہے ہیں، سنہ 2019 کی آڈٹ رپورٹ جمع کروائی جاچکی ہے، جلد سنہ 2020 کی بھی کروا دی جائے گی۔

تنظیم کی رجسٹریشن کے حوالے سے جواب میں کہا گیا ہے کہ ڈی آر ایف نے اکنامک افیئرز ڈویژن (ای اے ڈی) سے ضروری رجسٹریشن حاصل کر رکھی ہے، چونکہ ڈی آر ایف ایک بین الاقوامی تنظیم نہیں لہٰذا وہ وزارت داخلہ میں رجسٹریشن کی پابند نہیں۔

جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ تنظیم نے رجسٹریشن کے لیے تمام مالیاتی دستاویز جمع کروائی ہیں جبکہ 2 سال کی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو )بھی حاصل کر رکھا ہے۔

غیر ملکی فنڈنگ کے حجم اور ذرائع کے بارے میں کہا گیا ہے کہ تنظیم اس حوالے سے تمام تفصیلات اکنامک افیئرز ڈویژن (ای اے ڈی)، حکومت پاکستان کو جمع کروا چکی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز وزارت داخلہ میں ڈی آر ایف کے خلاف درخواست جمع کروائی گئی تھی جس میں کہا گیا کہ تنظیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نگہت داد غیر ملکی فنڈنگ کے غیر قانونی استعمال میں ملوث ہیں اور انہوں نے 5 سال سے اکاؤنٹس کی تفصیلات جمع نہیں کروائیں۔

درخواست میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ حکومت ڈی آر ایف کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کرے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں