The news is by your side.

Advertisement

’محبت سچی تھی میں تم تک پہنچ ہی گیا‘

اے آر وائی ڈیجیٹل کے ڈرامہ سیریل ’دل ویراں‘ کی 14ویں قسط کا سین مداحوں کو بھا گیا۔

ڈرامہ سیریل دل ویراں میں حسن خان (حیدر)، نوال سعید (منہل)، شہروز سبزواری (طلال)، راشد فاروقی (طلال کے والد) سیمی پاشا (زاہدہ) حنا رضوی (طلال کی والدہ)، صبیحہ ہاشمی (منہل کی آنٹی) کا کردار نبھا رہی ہیں۔

ڈرامے کی کہانی میں حیدر اور منہل یونیورسٹی کے ساتھی ہیں اور ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں، حیدر کے نوکری کے لیے بیرون ملک جانے کے بعد ان کی بہن نے جوڑے کے درمیان فاصلہ پیدا کر دیا۔

راشد فاروقی (لالچی خاور طلال کے والد) اور ان کی اہلیہ اپنے بیٹے طلال کی منہل کے ساتھ شادی کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور دونوں‌ کی شادی بھی ہوجاتی ہے۔

گزشتہ قسط میں دکھایا گیا کہ حیدر کہتے ہیں کہ ’منہل میری محبت سچی تھی اسی لیے میں تم تک پہنچ ہی گیا اب ہمارے درمیان کوئی بھی نہیں آسکتا۔‘

منہل ابھی حیدر سے بات کرہی رہی ہوتی ہیں کہ کال آنے سے ان کی آنکھ کھل جاتی ہے اور وہ ہڑ بڑاتے ہوئے اٹھ جاتی ہیں۔

اس دوران منہل کے شوہر طلال کی آنکھ کھل جاتی ہے اور وہ فون اٹھا کر کہتے ہیں کہ رانگ نمبر ہے۔

منہل شوہر سے پوچھتی ہیں کہ ’کون تھا؟‘ اس پر وہ کہتے ہیں کہ ’کوئی رانگ نمبر تھا کسی حامد انکل کے لیے پوچھ رہے تھے، معاف کرنا میں نے فون سائلنٹ نہیں کیا تھا تمہاری نیند خراب ہوگئی۔‘

دل ویراں کی پندرہویں قسط کے پرومو میں دکھایا گیا ہے کہ ’طلال کے والد کے پاس حیدر کا فون آتا ہے جس پر منہل خوفزدہ ہوجاتی ہیں۔

کیا طلال کو منہل اور حیدر کی محبت کے بارے میں پتا چل جائے گا؟ کیا طلال منہل کو چھوڑے دیں گے؟ یہ سب جاننے کے لیے ڈرامہ سیریل ’دل ویراں‘ روزانہ شام 7 بجے دیکھنا نہ بھولیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں