The news is by your side.

Advertisement

بھیڑیوں میں پلنے والا انسانی بچہ : ویڈیو دیکھنے والے حیرت زدہ

بھارت کے شمالی صوبے میں بلند شہر نامی علاقے میں شکاریوں کے ایک گروپ کو اس وقت حیرانگی کا سامناکرنا پڑا جب انہوں نے خونخوار بھیڑیوں کے بیچ میں ایک چھ سالہ انسانی بچے کو چلتے ہوئے پایا۔

سال 1872 مین پیش آنے والے اس واقعے میں انہوں نے دیکھا کہ گھنے جنگل کے اندر تقریباً درجن بھیڑیئے ایک گروپ کی صورت میں جارہے تھے اور وہ ایک غار میں چلے گئے ان کے ساتھ وہ لڑکا بھی چلا گیا۔

بعد ازاں ان شکاریوں نے اس راز کو جاننے کی کوشش کی اور پروگرام کے تحت اس غار کا محاصرہ کیا اور غار کے داخلی راستے پر آگ لگادی جس سے وہ تمام بھیڑیئے نکل کر بھاگے۔

ان بھیڑیوں کو جان سے مار کر اس چھ سالہ بچے کو پکڑ لیا گیا، مذکورہ شکاریوں نے اس لڑکے کا کا نام “دینا سانیچار” رکھا، جسے بعد میں پرورش کیلئے ایک یتیم خانے میں بھیج دیا گیا۔ شروع کے دنوں میں اس نے اپنے بھیڑیا والدین کو آواز دینے کیلئے مختلف آوازوں کا استعمال کیا جیسے بھونکنا، رونا، چیخنا چلانا شامل تھا۔

چھ سالہ دینا سانیچار ایک ایسا بچہ تھا جسے بھیڑیوں نے پالا پوس کر بڑا کیا تھا، یتیم خانے کے سربراہ نے بتایا کہ بلاشبہ دینار ایک کم عقل اور بے وقوف لڑکا ہے لیکن ایسا نہیں کہ اس کے اندر سمجھ بوجھ نہ ہو۔

اس حوالے سےسال 1941میں ایک چائلڈ اسپیشلسٹ نے بتایا کہ دینا سانیچار غیر مستحکم طریقے سے رہتا تھا، اور ایسی چیزیں کھانا پیتا تھا کہ جسے عام لوگ سن کر گھن کھانے لگیں۔

دینا گونگا نہیں تھا بلکہ بات کرنے کی بجائے وہ جانوروں کی آوازیں نکالتا تھا اس نے اپنا جسم ڈھاپنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی اس کے علاوہ اسے انسانوں سے میل جول میں بھی کسی قسم کی رغبت نہیں تھی۔

بچوں کی دلچسپی کیلئے لکھی جانے والی کتاب “جنگل بک” بھی “دینا سانیچار” کی زندگی پر مبنی ہے، اس کتاب کا مرکزی کردار “موگلی” بھی اسی سے متاثر ہوکر تخلیق کیا گیا ہے۔

کتاب “جنگل بک” میں بتایا گیا ہے کہ “موگلی” عظیم جذبات اور انسانی دانشمندی سے مالا مال ایک ایسا ہونہار انسانی بچہ ہے جسے جنگل کے سب جانور بہت پیار کرتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں