The news is by your side.

Advertisement

جاپانی وزیر اعظم کے بیٹے کی جانب سے کھانے کی دعوت بحث کا موضوع بن گئی

ٹوکیو: جاپانی وزیر اعظم سُوگا یوشی ہیدے کے بیٹے کی جانب سے کھانے کی ایک مبینہ دعوت پر جاپانی پارلیمان میں بحث شروع ہو گئی ہے، وزارت مواصلات نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد دو بیوروکریٹس کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔

جاپانی میڈیا کے مطابق جاپان کی وزارت مواصلات کے ایک سینئر عہدے دار نے وزیر اعظم سُوگا یوشی ہیدے کے بیٹے کی جانب سے دعوت کا اعتراف کر لیا ہے جس میں وزارت مواصلات کے عہدے دار بھی شریک ہوئے تھے۔

سینئر عہدے دار نے کہا کہ انھوں نے رات کے کھانے پر ہونے والی ایک میٹنگ میں سیٹلائٹ براڈ کاسٹنگ کاروبار پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

انھوں نے بتایا اس دعوت کے تمام اخراجات نشریات سے متعلق ایک کمپنی نے برداشت کیے تھے، اور اس کمپنی میں کام کرنے والے وزیر اعظم سُوگا یوشی ہیدے کے ایک بیٹے بھی دعوت میں شریک تھے۔

وزارت مواصلات کے معلومات اور مواصلات بیورو کے سربراہ آکی موتو یوشی نوری نے یہ بات ایوان زیریں کی بجٹ کمیٹی میں جمعے کے روز بتائی۔

یہ اسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد جاپانی وزیر اعظم کو قوم سے معافی بھی مانگنی پڑ گئی تھی، انھوں نے اپنے بیٹے کو اسکینڈل کی تحقیقات کے سلسلے میں تعاون کی بھی ہدایت کی۔

یاد رہے کہ ایک جریدے نے حالیہ دنوں میں خبر دی تھی کہ وزیر اعظم سُوگا کے بیٹے نے قانون کی ممکنہ خلاف ورزی کرتے ہوئے آکی موتو اور دیگر سینئر عہدے داروں کی گزشتہ سال متعدد بار خاطر مدارت کی، جریدے کی جانب سے ایک آڈیو ریکارڈنگ کی جزوی تحریری نقل بھی جاری کی گئی تھی، جو دسمبر میں ہونے والی ملاقاتوں میں سے ایک میں کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ جاپان میں سرکاری عہدے داران کو تحائف دینے یا خاطر مدارت کرنے پر پابندی عائد ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں