The news is by your side.

Advertisement

اندھی گولی کا شکار‘ مفلوج طالب علم نویں جماعت کے امتحان دے رہا ہے

کراچی: سنہ 2016 میں اندھی گولی کا نشانہ بن کر معذور ہوجانے والا عمران معذوری کے عالم میں بھی نویں جماعت کے امتحانات دے کرعزم و حوصلے کی نئی داستانیں رقم کررہا ہے‘ اندھی گولی چلانے والا مجرم آج بھی قانون کی گرفت سے باہر ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے جمشید روڈ کا رہائشی عمران فروری 2016 کو ایک اندھی گولی کا نشانہ بنا تھا‘ آج تک نہ تو واقعے کی تحقیقات میں کوئی پیش رفت ہوئی ہیں اور نہ ہی عمران مکمل طور پر صحت یا ب ہوسکا ہے‘ اس کے باوجود وہ علم کو اپنا نصب العین بنائے اپنی تعلیمی قابلیت کو آگے بڑھانے کے لیے جدو جہد کررہا ہے۔

وقوعہ کے وقت موجود عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ عمران گھر سے نیچے آیا تو ایک دم گر کر بے ہوش ہوگیا‘ جب اسے اٹھایا گیا تو اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا‘ تیرہ سالہ بچے کو ایمرجنسی میں شہرقائد کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا تو وہاں ہونے والے ایکسرے اور ایم آرآئی رپورٹ میں انکشا ف ہوا کہ اس کے دماغ میں ریوالور کی گولی لگی ہے اور وہیں پھنس گئی ہے۔

اس واقعہ کی متعلقہ تھانے میں رپورٹ بھی درج کرائی گئی لیکن آج تک تفتیش کی گاڑی اسی مقام پر رکی ہوئی ہے جہاں وہ روزِ اول تھی ‘ پولیس کے تحقیقاتی افسران اپنی تمام تر کوشش کے باوجود اس اندھی گولی چلانے والے مجرم کا سراغ لگانے میں ناکام رہے ہیں‘ دوسری جانب تب سے آج تک عمران شدید جسمانی اور اس کے اہل خانہ معاشی مشکلات سے گزررہے ہیں۔

چاہتا ہوں کہ جلد صحت یاب ہوکر نارمل زندگی گزارنا شروع کروں اور اپنے والدین کا سہارا بنوں

طالب علم عمران

دوماہ اسپتال میں زیرِعلاج رہنے کے بعد ڈاکٹروں نے اس کی حالت میں مزید بہتری کے امکان سے انکار کرتے ہوئے والدین کو گھر پر ہی اس کی فزیو تھراپی اور اسپیچ تھراپی کرانے کا مشورہ دیا‘ عمران تقریباً معذور ہے اور اسے بولنے میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔ اس تمام عرصے میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے والدین نے اپنا سب کچھ بچے کے علاج معالجے پر خرچ کردیا اور کئی قرابت داروں کے مقروض بھی ہوگئے۔ عمران تقریباً اپاہج ہوچکا تھا لہذا ایک تربیت یافتہ تھراپسٹ کو اس کی چوبیس گھنٹے نگہداشت کے لئے رکھا گیا جو معاشی طور والدین پر ایک مزید بوجھ تھا لیکن کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا‘ لہذا یہ اضافی بوجھ بھی قبول کرنا پڑا اور تقریبا ایک لاکھ روپے ماہانہ اس مد میں صرف ہورہے ہیں۔

ان تمام مشکلات اور معذوری کے باوجود عمران کے حوصلے بلند ہیں اور وہ گھر سے باہر گراؤنڈ میں آکر دوسرے بچوں کی طرح کھیلنا چاہتا ہے ۔ وہ پہلے کی طرح اسکول جانا اور اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتا ہے ۔ اس کے اسی شوق اور جذبے کو سامنے رکھتے ہوئے والدین نے ایک پرائیوٹ ٹیوٹر رکھا جس نے عمران کی نویں کلاس کے امتحان کی تیاری کرائی ۔ عمران سمجھ بھی لیتا ہے اور بمشکل کچھ بول بھی لیتا ہے لیکن خود لکھ نہیں سکتا کیونکہ ہاتھوں میں شدید رعشہ ہے ۔اس کے شوق کو دیکھتے ہوئےتعلیمی بورڈ سے خصوصی اجازت نامہ حاصل کیا گیا کہ عمران امتحان دے سکے اور اسے لکھنے کے لیے ایک مددگار کی بھی اجازت مل گئی جو اس بتائے گئے جوابات کے مطابق پرچہ حل کرسکے( بورڈ کے قوانین کے مطابق مدد گار کی تعلیمی قابلیت ایک درجہ کم ہونا ضروری ہے)۔ اب عمران نویں کلاس کا امتحان پرائیوٹ امیدوار کے طور پر دے رہا ہے اور ایک بہت مستقبل کے لیے پر امید ہے‘ اسے امید ہے کہ ایک نہ ایک دن وہ اپنے قدموں پر کھڑا ہوگا اور مشکل وقت میں اپنی تمام تر جمع پونجی اس پر لٹادینے والے والدین کا سہارا بنے گا۔

عمران کی داستان سنانے کا مقصد یہ پیغام دینا کہ حوصلہ اور جذبہ اگر باقی ہو تو کوئی مشکل مشکل نہیں رہتی ۔۔۔۔ عمران اس معذوری اور مشکلات کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہے اور مزید تعلیم حاصل کرکے اپنا مستقبل خود سنوارنا چاہتا ہے تاکہ والدین اور معاشرے پر بوجھ نہ بنے ۔

خیال رہے کہ عمران اپنے والدین کا سب سے بڑا بیٹا ہے اور اس کے کے والدین کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے جو بمشکل اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھے ہوئے تھے لیکن اس اچانک افتاد نے انہیں توڑ کے رکھ دیا۔ معاشی بربادی کے علاوہ ذہنی اور روحانی کرب الگ اور وہ خواب کہ کل عمران بڑا ہوکر والدین کا سہارا بنے گا اب پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔مشکلات اور مسائل کے باوجود مسلسل علاج اور نگہداشت سے عمران میں کچھ بہتری تو آئی لیکن وہ اب بھی کھڑا ہونے بغیر سہارے چلنے اور دوسرے کی مدد کے بغیر کچھ کرنے سے معذور ہے ۔

اس مشکل سفر میں کچھ نیک لوگ اس کے والدین کا دکھ بانٹنے کے لیے آگے آئے اور انہوں نے اپنے طور پر ہر ممکن مدد بھی کی ‘ تاہم ابھی بھی عمران کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے‘ اس تمام سفر میں ریاست نے کہیں بھی اپنا کردار ادا نہیں کیا‘ نہ تو عمران کو واپس صحت مند زندگی کی طرف واپس لانے کے لیے اقدامات کیے گئے اور نہ ہی اس اندھی گولی چلانے والے شخص کو قانون کے کٹہرے میں پہنچایا گیا کہ عمران اور اس کے والدین کے دکھوں کا کچھ تو مداوا ہوتا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں