The news is by your side.

Advertisement

جب ایک حادثے نے خاتون کی زندگی کا رخ موڑ دیا

زندگی کے کسی بھی شعبے میں نمایاں مقام حاصل کرنا بہت ہمت اور محنت طلب کام ہوتا ہے اور اگر جسمانی طور پر معذوری کا شکار کوئی بھی انسان ایسی کامیابی حاصل کرلے تو یہ کسی بڑے کارنامے سے کم نہیں۔

ایک ایسی ہی مثال  راولپنڈی کی ایک باصلاحیت خاتون فہمینہ قری کی ہے جنہوں نے جسمانی معذوری کا شکار ہوتے ہوئے بھی اس معذوری کو اپنے لیے کمزوری یا رکاوٹ ہرگز نہیں بننے دیا بلکہ اسے زندگی میں کامیابی کے لیے ایک چیلنج سمجھ کر قبول کیا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں فہمینہ قری نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے بیماری اور معذوری کو شکست دینے کی ہمت عطا کی۔ میں‌نے کبھی بھی اپنے کام میں اپنی معذوری کو آڑ نہیں بننے دیا۔

انہوں بتایا کہ نومبر1993کو چودہ سال کی عمر میں ایک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں معذور ہوگئی تھی،یہ بات مجھ سے 8ماہ تک چھپائی گئی۔

فہمینہ قری نے بتایا کہ ان کے والد کا انتقال بھی حادثے کے 4ماہ بعد ہوگیا تھا ہم تین بہنیں ہیں، ملنے والے لوگ بھی میری امی سے یہی کہتے تھے کہ اس کا کیا ہوگا یہ کیسے زندگی گزارے گی اس طرح کے دیگر سوالات اور باتیں کی جاتی تھیں۔

فہمینہ کا کہنا تھا کہ میں نے اسی وقت تہیہ کرلیا تھا کہ میں اپنی امی کا بیٹا بن کر دکھاؤں گی اور ان کا سہارا بنوں گی، اپنی شادی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ایک سیمینار میں میری ملاقات عاطف سے ہوئی اور آج میں ان کے ساتھ کامیاب ازدواجی زندگی گزار رہی ہوں۔

معذور افراد کے مسائل کب اور کیسے حل ہوتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن فہمینہ قری اور ان جیسی دیگر خواتین معاشرے میں عام افراد کے لیے مشعل راہ ہیں اور اپنے اپنے شعبوں میں ان کی کامیابیاں یقیناً قابل فخر ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں