The news is by your side.

Advertisement

حق مہر کی رقم پر اختلاف، بارات واپس چلی گئی

سعودی عرب میں نکاح خواں ڈاکٹر عمر الھزازی کا کہنا ہے کہ نکاح کی تقریب کے دوران بعض اوقات ایسے واقعات اور تنازعات کھڑے ہوجاتے ہیں جنہیں بھلایا نہیں جاسکتا۔

انہوں نے بتایا کہ ایسے معاملات یاد رہ جاتے ہیں، ایک دفعہ کا ذکر ہے نکاح کے وقت لڑکی اور لڑکے کے خاندان میں حق مہر کی رقم پر اختلاف بڑھ گیا، تنازع اس قدر سنگین ہوگیا کہ نکاح ہی منسوخ کرنا پڑا اور دلہن والوں نے بارات واپس کردی، اس طرح اُس موقع پر شادی نہ ہوسکی۔

نکاح خواں نے ایک اور قصہ سنایا کہ دلہن کا حق مہر 50 ہزار ریال مقرر تھا جو دولہا نے اپنے ہونے والے سسر کو دیا، رقم گنی گئی تو ایک ہزار ریال کم تھے اصرار کے باوجود دلہن کے والد نہ مانے اور پھر نکاح کی تقریب ملتوی ہوگئی۔

ڈاکٹر عمر الھزازی کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ دلہا کے کہنے پر میں نے لڑکی کے والد سے حق مہر کی رقم کم کروائی لیکن بعد میں دلہن کے والد نے آخر مجھے کہا آپ کی وجہ سے میری بیٹی کا حق مہر کم ہوا ہے۔

اسی ضمن میں ایک اور سعودی نکاح خواں سعید آل ھادی اپنی یاداشت کھنگال کر کہتے ہیں میں نے ایک دفعہ جیل میں نکاح پڑھایا، دلہے کے ہاتھ پر ہتھکڑی لگی تھی جب دلہن آئی تو اس کے ہاتھ بھی ہتھکڑیوں سے بندھے تھے، میری درخواست پر دونوں کی زنجیریں کھول دی گئیں اور انہیں سکونت کے لیے الگ سے کمرہ بھی دیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں