واشنگٹن (15 اپریل 2026): پیو ریسرچ سیںٹر کے ایک نئے سروے کے مطابق امریکا میں اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھنے والوں کی شرح ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے، جب کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر عدم اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
غزہ میں تباہی مچانے اور ایران کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہونے والی جنگ چھیڑنے کے بعد امریکی نوجوانوں کی اکثریت اسرائیل سے بے زار ہو گئی ہے، اور امریکی شہریوں میں اسرائیل کو ناپسند کرنے کی شرح تیزی سے بڑھی ہے۔
سروے کے مطابق اب 60 فی صد امریکی بالغ افراد اسرائیل کو منفی نظر سے دیکھتے ہیں، جو گزشتہ سال 53 فی صد اور 2022 میں تقریباً 40 فی صد تھا۔ اسی طرح وزیرِ اعظم نیتن یاہو پر بھی عدم اعتماد بڑھ گیا ہے، جہاں 59 فی صد افراد نے عالمی امور کو سنبھالنے کے حوالے سے ان پر کم یا کوئی اعتماد ظاہر نہیں کیا۔
یہ رجحان خاص طور پر نوجوان ووٹرز میں مختلف سیاسی جماعتوں میں یکساں طور پر دیکھا گیا ہے، اور یہ تبدیلی امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران سامنے آئی ہے۔ یہ سروے 23 سے 29 مارچ 2026 کے دوران 3,507 امریکی بالغ افراد میں کیا گیا۔
نتائج کے مطابق اسرائیل کے بارے میں ’’انتہائی منفی‘‘ رائے رکھنے والوں کی شرح 2022 کے مقابلے میں تقریباً 3 گنا بڑھ کر 28 فی صد تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح نیتن یاہو پر عدم اعتماد بھی بڑھ کر 59 فی صد ہو گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فی صد اور 2023 کے مقابلے میں تقریباً 20 فی صد زیادہ ہے۔
جے ڈی وینس کا پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات میں زبردست پیش رفت کا اعتراف
ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی میں بھی اسرائیلی حمایت میں نمایاں کمی آ گئی ہے، 50 سال سے کم عمر کے شہریوں میں اسرائیل انتہائی غیر مقبول ہو گیا ہے، 4 سال میں اسرائیلی حمایت 28 پوائنٹ سے کم ہو کر منفی 16 پوائنٹ تک آ گئی، ری پبلکن پارٹی کے ووٹرز میں اسرائیلی حمایت منفی 9 پوائنٹ پر پہنچ گئی، ری پبلکن کے علاوہ دیگر امریکی شہریوں میں اسرائیلی حمایت منفی 47 پوائنٹ تک آ گئی، ڈیموکریٹس ووٹروں میں حمایت منفی 55 پوائنٹس تک گر گئی۔
ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی فلسطینیوں کی نسل کشی حمایت کھونے کی سب سے بڑی وجہ ہے، 4 سال کے دوران امریکا میں فلسطینیوں کی حمایت 40 پوائنٹس تک بڑھی ہے، امریکی تاریخ میں پہلی بار فلسطینیوں کی حمایت اتنی زیادہ حد تک بڑھی ہے۔
اس سروے میں مسلمان، یہودی، اور غیر ہسپانوی ایشیائی بالغوں کا اوور سیمپل کیا گیا ہے تاکہ چھوٹے گروپوں کی رائے درست انداز میں معلوم ہو سکے، نتائج کو قومی آبادی کے تناسب کے مطابق وزن دیا گیا۔
جوابات آن لائن اور فون کے ذریعے جمع کیے گئے (انگریزی/ہسپانوی)، سوال نامے میں شامل اہم سوالات یہ تھے: ’’کیا آپ کا اسرائیل کے بارے میں رجحان موافق ہے یا مخالف؟ آپ کو عالمی امور میں درست فیصلہ کرنے کے معاملے میں اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو پر کتنا اعتماد ہے؟‘‘
یہ سروے اکیسویں صدی کے وسط میں امریکی معاشرے میں بدلتے سیاسی اور جغرافیائی حالات کا عکس ہے۔ نیوز ٹائمز اور دی ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹس کے مطابق حالیہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات (غزہ میں اسرائیل-حماس جنگ، امریکا اور اسرائیل کا ایران پر حملہ) نے امریکی رائے عامہ کو متاثر کیا ہے۔
نوجوان امریکیوں، خواہ وہ ڈیموکریٹ ہوں یا ری پبلکن، کی رائے اس معاملے میں قدامت پسند نسل سے زیادہ منفی ہے۔ ڈیموکریٹس میں اسرائیل کے لیے رواداری تقریباً ختم ہو گئی (تقریباً 80% منفی) جب کہ ری پبلکنوں میں عمر کے ساتھ تقسیم زیادہ واضح ہے۔ انتخابی سیاست بھی اثر انداز ہے، یہاں تک کہ بہت سے امریکی اب اسرائیل کی ملٹری امداد پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔
عمر اور مذہبی لحاظ سے بھی فرق نظر آتا ہے، یہودیوں اور سفید ایوانجیلی عیسائیوں میں اسرائیل کی حامی اکثریت برقرار ہے، مگر دیگر گروپوں میں، خاص کر مسلمانوں میں منفی رائے غالب ہے (مثلاً مسلمان امریکیوں میں صرف 4% نے اسرائیل کو مثبت دیکھا ہے اور 91 فی صد نے نیتن یاہو پر بالکل ہی نہیں یا بہت کم اعتماد ظاہر کیا)۔ مجموعی طور پر، سروے کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکا میں اسرائیل سے ہمدردی کم ہو رہی ہے، اور انتہا پسندانہ بیانیے کے خلاف نئی بحثیں جنم لے رہی ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


