The news is by your side.

Advertisement

کروناوائرس کی تیزرفتار تشخیص کا نیا طریقہ دریافت

برلن: جرمن سائنسدانوں نے کروناوائرس کی تیزرفتار  تشخیص کا نیا طریقہ تلاش کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق جرمنی کے سائنس دانوں کی جانب سے تلاش کیے جانے والے نئے طریقہ کار سے ٹیسٹ کی رفتار میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا۔ جرمنی میں روزانہ 40 ہزار ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

نئے طریقہ کار سے جرمنی روزانہ 4 لاکھ ٹیسٹ کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ جرمن ریڈ کراس اور انسٹی ٹیوٹ برائے میڈیکل وائرولوجی نے مل کر نیا طریقہ تلاش کیا۔ ماہرین نے اسے اہم پیش رفت قرار دے دی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئے طریقے کے ذریعے صرف 2 سے 3 گھنٹے کے اندر پتا لگایا جاسکے گا کہ کوئی بھی شہری کروناوائرس کا شکار ہے یا نہیں۔ اس سے قبل یہ طریقہ دیگر امراض کے لیے بھی استعمال کیا جاچکا ہے۔

جاپان، کرونا کا ممکنہ علاج، مریضوں پر آزمائش کی تیاری

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح ڈاکٹرز بہت کم وقت میں ٹیسٹ کا نتیجہ شہری کو پہنچا سکتے ہیں۔

دوسری جانب جاپان میں ادویات بنانے والی کمپنی نے کروناوائرس کا علاج دریافت کرلیا جسے جلد ہی انسانوں پر آزمایا جائے گا۔ ’’ایویجن‘‘ نامی دوا کو انسانوں پر آزمانے سے متعلق تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہوگئیں، جلد جاپان میں کروناوائرس کے مریضوں پر استعمال کی جائے گی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں