The news is by your side.

Advertisement

کرونا مریضوں میں خون جمنے کی وجوہات دریافت

امریکی محققین نے انکشاف کیا ہے کہ کرونا مریضوں کے جسم مین پلیٹلیٹس اور خون کی شریانوں میں موجود خلیات میں آنے والی تبدیلی اعضا کو جان لیوا نقصان پہنچانے کی بڑی وجہ ہے۔

یہ بات یویارک یونیورسٹی گروسمین اسکول آف میڈیسین نئی تحقیق میں سامنے آئی جس کے نتائج طبی جریدے سائنس ایڈوانسز میں شائع کیے گئے، اس میں تحقیق کاروں نے کہا کہ کرونا کے باعث متاثرہ شخص کے جسم میں بلڈ کلاٹس بننے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ متاثرہ پلیٹلیٹس کی وجہ سے خون کی شریانوں میں آنے والی تبدیلی موجود خلیات میں زیادہ تر ایک پروٹین پی سلیکٹین کا نتیجہ ہوتی ہیں جس کے باعث خون جمنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق میں 2 جینز ایس 1000 اے 8 اور ایس 1000 اے 9 کو شناخت کیا گیا جو کووڈ 19 کے مریضوں میں پلیٹلیٹس کو بڑھا دیتے ہیں جس کے نتیجے میں ایم آر پی 8 اور 14 نامی پروٹینز زیادہ بننے لگتے ہیں۔

یہ دونوں خلیات اکٹھے کام کرتے ہیں اور زیادہ تر مدافعتی خلیات میں پائے جاتے ہیں، ان پروٹینز کی تعداد میں اضافے کو تحقیق میں شریانوں میں بلڈ کلاٹس اور ورم، بیماری کی سنگین شدت اور اسپتال میں طویل قیام سے منسلک کیا گیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ پلیٹلیٹس کو متحرک ہونے سے بلاک کرنے والی ادویات شریانوں میں کووڈ سے جڑے ورم کی شرح کو کم کرسکتی ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ جسم میں جب غیر معمولی ورم آجاتا ہے تو خون کے اجزاء کے ردعمل سے متحرک ہوتا ہے اور لیس دار ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے کلاٹس بننے لگتے ہیں۔

امریکی ماہرین نے کرونا وائرس سے جینز ایکسپریشن میں ان تبدیلیوں کو دیکھا جو خون جمنے اور ورم کی وجوہات میں سے تھیں۔

اس سے قبل جولائی میں ہونے والی تحقیق میں کہا گیا تھا کہ کرونا وائرس سے زیادہ متاثرہ افراد میں ورم اور بلڈ کلاٹس کی ممکنہ وجہ وہ اینٹی باڈیز ہوتی ہیں جو جسم اس بیماری سے لڑنے کے لیے تیار کرتا ہے، مگر وہ پھیپھڑوں میں غیر ضروری پلیٹلیٹس سرگرمیوں کو متحرک کردیتی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں