The news is by your side.

Advertisement

صلیبی جنگ میں استعمال ہونے والی قدیم وزنی تلوار دریافت (ویڈیو)

حیفا: اسرائیل میں 900 سال پرانی اور صلیبی جنگ میں استعمال ہونے والی ایک تلوار دریافت ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیل کے شمالی علاقے حیفا کے ساحل کے قریب ایک غوطہ خور کو قدیم تلوار ملی ہے، جس کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ تقریباً نو سو سال پرانی ہے، اور صلیبی جنگوں میں استعمال ہوئی ہے۔

شوقیہ غوطہ خور شلومی کزین کو 3.3 فٹ لمبی اور لوہے سے بنی یہ قدیم تلوار حیفا کے ساحل کے قریب پیراکی کے دوران اتلے پانی میں ملی، جو کسی صلیبی جنگجو کے زیر استعمال تھی۔

غوطہ خور نے تلوار کے ساتھ دیگر نوادارات بھی دریافت کیے، تلوار سالم حالت میں ہے، اور اس کی سطح پر سمندری مادوں کی تہہ جمی ہوئی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر سمندری ریت کی منتقلی کی وجہ سے سطح پر آئی ہے۔

اسرائیلی محکمہ نوادرات کا کہنا ہے کہ تلوار کا سائز اور شکل بتاتی ہے کہ یہ ایک صلیبی کا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک صلیبی قلعے عتلیت سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر پائی گئی ہے۔ یہ تلوار ساحل سے 200 میٹر (656 فٹ) دور، اور چار میٹر (13 فٹ) کی گہرائی میں ملی تھی۔

محکمہ نوادرات کے مطابق تلوار کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنے کے بعد اسے عوامی نمائش کے لیے پیش کر دیا جائے گا۔

اسرائیلی میرین آرکیالوجی یونٹ کے سربراہ کوبی شاروٹ کا کہنا ہے کہ تلوار کافی بڑی اور وزنی ہے، جس مقام سے یہ تلوار دریافت ہوئی ہے پرانے زمانے میں یہ ساحل سمندری طوفانوں کے دوران جہازوں کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ تلوار ممکنہ طور پر 1096 سے تیرہویں صدی کے آخر تک والی صلیبی جنگوں میں شرکت کرنے والے کسی جنگجو کے زیر استعمال رہی ہوگی اور اسے استعمال کرنے والا شخص خود بھی کافی طاقت ور رہا ہوگا کیوں کہ یہ تلوار کافی وزنی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں