The news is by your side.

Advertisement

ڈراؤنے خواب کس مرض‌ کی علامت؟

نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ڈراؤنے خواب دیکھنے والے عمر رسیدہ افراد لاعلاج ذہنی بیماری پارکنسن (رعشے) کا شکار ہوسکتے ہیں۔

دنیا میں انسانوں کی بڑی تعداد سوتے میں خواب دیکھتی ہے، کچھ خواب سہانے ہوتے ہیں تو کچھ ڈراؤنے اور کچھ ایسے خواب بھی ہوتے ہیں جو جاگتی آنکھوں دیکھے جاتے ہیں لیکن یہاں ہم آپ کو اس حوالے سے ہونے والی ایک نئی تحقیق سے آگاہ کررہے ہیں۔

امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو بوڑھے افراد ڈراؤنے خواب دیکھتے ہیں وہ مستقبل لاعلاج ذہنی بیماری پارکنسن کے موذی مرض کا شکار ہوسکتے ہیں یعنی ڈراؤنے خواب عمر رسیدہ افراد میں پارکنسن یعنی رعشے کی بیماری کا قبل از وقت پتہ دے سکتے ہیں۔

برمنگھم یونیورسٹی کے مرکزی برائے انسانی دماغی صحت سے تعلق رکھنے والے مطالعہ کے مصنف عابیدیمی اوٹائیکو اور ان کی ٹیم نے امریکا میں 3800 سے زیادہ بوڑھے مردوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا جنہوں نے 12 سالہ مطالعے میں حصہ لیا تھا، اس مطالعے کے آغاز میں مردوں نے وسیع پیمانے پر اپنی نیند کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔

اس مطالعے کے دوران مردوں میں پارکنسز کی بیماری کے 91 کیسز پائے گئے اور جن لوگوں نے تحقیق کے آغاز میں کثرت سے برے خواب دیکھنے کی نشاندہی کی تھی ان میں دیگر کے مقابلے میں پارکنسنز سے متاثر ہونے کا امکان دیگر سے دُگنا تھا۔

ٹیم کے سربراہ عابیدیمی اوٹائیکو نے اس حوالے سے ساتھ ہی وضاحت کی ہے کہ اس میدان میں ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاہم برے خواب اس بات کی نشاندہی کرسکتے ہیں کہ جو لوگ بغیر کسی واضح وجہ کے بڑی عمر میں اپنے خوابوں میں تبدیلی دیکھتے ہیں انہیں طبی مشورہ کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ اگرچہ پارکنسنز کی بیماری کی جلد تشخیص کرنا سودمند ثابت ہوتا ہے تاہم خطرے کی قبل از وقت شناخت بہت مشکل ہے اور اس کے لیے بہت مہنگے ٹیسٹس کی ضرورت ہوتی ہے یا پھر غیر مخصوص ٹیسٹس جیسے کے ذیابیطس۔

یاد رہے کہ پارکنسن ایک ایسا لاعلاج مرض ہے جس میں مبتلا انسانوں کے دماغ میں اعصابی خلیے مر جاتے ہیں۔ یہ مرض دھیرے دھیرے انسان کو جکڑ لیتا ہے، یہ تاحال لا علاج بیماری ہے، جس کی علامات بہت واضح ہوتی ہیں، پارکنسن میں مبتلا انسانوں کے ہاتھ کانپتے ہیں، اُن کے لیے چائے کی پیالی تک تھامنا یا چمچ اپنے منہ تک لے جانا بھی مشکل بلکہ ناممکن ہو جاتا ہے۔

اس مرض کے مریضوں کا علاج زیادہ تر ایسی ادویات سے کیا جاتا ہے، جن کا مقصد دماغ میں ڈوپامین کی مقدار کو متوازن رکھنا ہوتا ہے۔ آپریشن سے بھی اس مرض کو دُور نہیں کیا جا سکتا۔

اس طرح کے آپریشنز میں جلد کے نیچے ایک ننھا سا جنریٹر رکھ دیا جاتا ہے، جس کا مقصد دماغ کے کچھ مخصوص حصوں کو تحریک دینا ہوتا ہے۔ صرف اتنا فرق پڑتا ہے کہ پھر ایسے مریضوں کو ذرا کم مقدار میں ادویات کھانا پڑتی ہیں ورنہ یہ مرض لا علاج ہی ہے اور دُنیا بھر کے سائنسدان اس کے علاج کے طریقے تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔

عالمی شہرت یافتہ باکسر محمدعلی بھی پارکنسن کے مرض میں مبتلا تھے اس کے علاوہ سابق امریکی صدر تھیوڈور روزویلٹ بھی اور ممتاز مصور سلواڈور ڈالی بھی اس مرض کا شکار ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں