The news is by your side.

Advertisement

آسٹریلیا میں گوشت خور ناسور کی وبا پھیل گئی، شہری خوفزدہ

سڈنی: آسٹریلیا میں گوشت خور ناسور کی وبا پھیلنے کے باعث شہری خوف میں مبتلا ہوگئے، ڈاکٹروں نے ہنگامی بنیادوں پر تحقیقات کروانے کا مطالبہ کردیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ’بورولی السر‘ کہلانے والی اس بیماری سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے، یہ بیماری اب زیادہ شدید ہوگئی ہے اور اس نے نئے قصبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیماری بالعموم افریقہ میں پائی جاتی ہے، مگر گزشتہ چار برس کے دوران وکٹوریا میں اس کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد میں چار سو فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

گوشت کو کھانے والے بیکٹریا سے پھیلنے والی اس بیماری کو ڈاکٹرز اب تک روکنے میں ناکام ہیں، 2016ء کے مقابلے میں گزشتہ برس اس کے مریضوں کی تعداد میں 51 فیصد اضافہ ہوا اور 275 افراد کو اس وبا نے متاثر کیا جو ریکارڈ تعداد بتائی جاتی ہے۔

وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر ڈینیل اوبرائن کا کہنا ہے کہ بورولی السر پریشان کن حد تک زیادہ شدت کے ساتھ خطے میں پھیل چکا ہے جبکہ اس کا جرثومہ مائکو بیکٹریم السیرنس کہلاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق وقت کے ساتھ ناسور بڑھتا چلا جاتا ہے اور متاثرہ حصے کو بدنما یا اپاہج کردیتا ہے، بالعموم ٹانگوں کو متاثر کرتا ہے مگر چہرے اور جسم کے دوسرے حصوں پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔

یہ بیماری انسانوں کو کیسے لگتی ہے ڈاکٹرز ابھی تک اس کا پتہ لگانے میں ناکام ہیں تاہم خیال ہے کہ یہ ماحول یا مٹی سے انسانی جسم میں داخل ہوتی ہے، بعض نظریات کے مطابق مچھر بھی اس جرثومے کی ترسیل کا سبب بنتے ہیں۔

ترقی پذیر ممالک میں یہ مرض زیادہ تر آبی اور دلدلی علاقوں میں پایا جاتا ہے، جہاں پانی کھڑے کھڑے سر جاتا ہے، تاہم آسٹریلیا میں زیادہ تر ساحلی علاقے اس کی لپیٹ میں آئے ہیں۔

سائنسی جریدے میڈیکل جرنل آف آسٹریلیا میں ڈاکٹروں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بیماری کی وجوہات کی تحقیقات کے لیے رقم مہیا کریں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں