The news is by your side.

کوئٹہ میں فائرنگ‘ معطل ایس ایچ او جاں بحق

کوئٹہ : بلوچستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سابق ایس ایچ او جاں بحق ہوگئے‘ کوئٹہ میں اس سے پہلے بھی پولیس کے سابق اورحاضر سرو س افسران و اہلکار نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ پولیس کے سابق ایس ایچ او فضل الرحمن کاکڑ مسجد روڈ سے ملحقہ میٹھا مل اسٹریٹ میں زیر تعمیرموٹر شوروم پر بیٹھے ہوئے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم افراد آئے اور ان پر اندھا دھندفائرنگ کردی اور با آسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں فضل الرحمن کاکڑ موقع پر جاں بحق ہوگئے، اطلاع ملنے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، لاش کو سول اسپتال منتقل کردیا۔

ابتدائی تفتیش کے مطابق جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم کے 6خول ملے ہیں۔ پولیس واقعے کی مزید تفتیش کررہی ہے۔ یاد رہے کہ فضل الرحمن کاکڑکو 2011میں خیزی چوک پر چیچن باشندوں پر فائرنگ اور قتل کے واقعے کے بعد ایس ایچ او ائیرپورٹ تھانے کے عہدے سے معطل کردیا گیا تھا۔

 ایس پی محمد الیاس، اہلیہ ، بیٹے اور بھائی کی شہادت

خیال رہے کہ کوئٹہ میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل گزشتہ سال نومبر میں قائم مقام ایس پی محمد الیاس کوئٹہ کے علاقے نواں کلی سے گاڑی میں اپنی فیملی کے ہمراہ جارہے تھے کہ اچانک نامعلوم مسلح افراد نے اُن پر فائرنگ کردی تھی ۔جس کے نتیجے میں ایس پی ، اہلیہ ، بیٹا اور بھائی شہید جبکہ پوتی شدید زخمی ہوگئی تھیں۔

اس سے قبل جولائی میں کوئٹہ میں کلی دیبہ کے قریب مسلح افراد نے پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کردی ، جس کے نتیجے میں 3 پولیس اہلکار شہید جبکہ ایس پی قائد آباد مبارک شاہ فائرنگ شدید زخمی ہوئے، جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے تھے ۔

گزشتہ سال جون میں سریاب روڈ پر پولیس چوکی کے نزدیک ناکے پر موجود پولیس وین پر موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں تین اہلکارجاں بحق اور ایک پولیس اہلکار شدید زخمی ہوگیا تھاجب کہ ایک راہگیر بھی زخمی ہوا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں