The news is by your side.

Advertisement

تھرموپول سے بنے ڈسپوزیبل کپ اور پلیٹس کا استعمال نقصان دہ قرار

کراچی: طبی ماہرین کے مطابق تھرموپول سے بنے ڈسپوزیبل کپ اور پلیٹس کا استعمال کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں تھرموپول سے بنے کپ اور پلیٹس کا استعمال کثرت سے کیا جاتا ہے لیکن اب ماہرین اس کے نقصان سے آگاہ کردیا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ تھرموپول سے بنے ڈسپوزیبل کپ اور پلیٹس کا استعمال کینسر کا سبب بن سکتا ہے اور ان چیزوں میں گرم مشروبات کے استعمال سے اس کا خطرہ اور بڑھ جاتا ہے۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے گزشتہ برس ڈسپوزیبل کپ اور پلیٹس پر پابندی عائد کی گئی تھی اس کے باوجود اسٹائروفورم کی فروخت کا عمل جاری ہے۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اس حوالے سے ضابطے بھی جاری کیے تھے جس میں بتایا گیا تھا کہ کون سا میٹریل کھانے پینے کی اشیا میں استعمال ہونا چاہئے۔

فوڈ اتھارٹی کے مطابق تھرموپول سے بنے کپ اور پلیٹس کے بجائے کاغذ اور گتے سے بنے میٹریل میں کھانے کا استعمال کیا جائے۔

ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی کیپٹن (ر) عثمان کے مطابق اسٹائروفورم کا استعمال فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس میں زیادہ کیا جاتا ہے، جب ہم کسی ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے جاتے ہیں تو بچ جانے والا کھانا ان اسٹائروفورم میں پیک کرکے دیا جاتا ہے۔

کیپٹن (ر) عثمان کا کہنا تھا کہ بہت سے ممالک میں اس کے استعمال پر پابندی عائد کی جارہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اسٹائروفورم کو کھانے پینے کی اشیا کے استعمال میں پابندی لگائی۔

انہوں نے کہا کہ جس کمپنی میں ان ڈسپوزیبل کپ اور پلیٹس کو بنایا جارہا ہے ہم ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں گے، کمپنیز کو آگاہ کردیا گیا ہے کہ وہ اپنی انڈسٹری میں ایسے میٹریل بنائیں جو کھانے پینے کی اشیا میں استعمال نہ ہوں۔

ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق ان اسٹائروفورم کے متبادل کے طور پر پولی پروپلین یا پیپر بیسڈ پروڈکٹس کا استعمال کیا جاسکتا ہے، پولی پروپلین زیادہ بہتر کوالٹی کا پلاسٹک ہوتا ہے جو استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام شہری ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے جہاں ان اسٹائرفورم کی فروخت جاری ہے اس کی شکایت پنجاب فوڈ اتھارٹی سے کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں