The news is by your side.

Advertisement

پنجاب اسمبلی کا بزنس ایڈوائزی اجلاس، حکومتی اور اپوزیشن اراکین میں تلخ کلامی

پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے قبل ہونے والے بزنس ایڈوائزی کے اجلاس میں ماحول گرم رہا جس میں حکومت اور اپوزیشن اراکین کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے قبل بزنس ایڈوائزی کمیٹی کا اجلاس ہنگامہ خیز ثابت ہوا جس میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اورماحول کشیدہ رہا۔

ذرائع کے مطابق بزنس ایڈوائزی اجلاس میں اپوزیشن رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں اور مقدمات کے معاملے ماحول کشید ہ ہوا اور اسی معاملے پر پی ٹی آئی رہنما ملک اسلم اقبال اور ن لیگی رہنما ملک احمد خان کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔

پی ٹی آئی رہنما میاں اسلم اقبال نے لانگ مارچ کے موقع پر پولیس کارروائیوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے ہمارے گھر پولیس کیسے داخل ہوئی؟ گھروں میں دیواریں پھلانگ کر پولیس کیسے داخل ہوسکتی ہے؟ کیا ہمارے کیس نیب کے ہیں؟ اپوزیشن ارکان کے گھروں کا تقدس پامال کیا گیا۔

جواباً ن لیگی رہنما ملک احمد خان نے کہا کہ ساڑھے تین سال ہم نے بھی یہی برداشت کیا ہے، دونوں رہنماؤں کے درمیان تلخ کلامی کے بعد دیگر اراکین نے بھی ایک دوسرے کے خلاف آوازیں بلند کردیں۔

مراد راس اور سبطین خان بھی پولیس کی کارروائیوں پر اجلاس میں برس پڑے، سبطین خان نے کہا کہ اسپیکر یقینی بنائیں آئی جی پنجاب اور اور چیف سیکرٹری اسمبلی میں پیش ہوں جب کہ مراد راس بولے کہ جو ہوگا وہ اجلاس میں ہی ہوگا۔

اس موقع پر اپوزیشن اراکین نے متفقہ مطالبہ کیا کہ آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری کو ایوان میں طلب کیا جائے اور اس حوالے سے انہوں نے مطالبات پر تحریری معاہدے کا مطالبہ بھی کیا۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی نے استفسار کیا کہ کیا آئی جی اسمبلی فلور پر معافی مانگیں گے؟

Comments

یہ بھی پڑھیں