The news is by your side.

Advertisement

سال 2020 میں خلع کے کیسز میں اضافہ

کراچی: سال 2020 میں ملک بھر میں خلع اور علیحدگیوں کے کیسز میں اضافہ ہوگیا، ماہرین نے اس کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین کے مل کر چلنے سے ہی شادی کا ادارہ قائم رہ سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سال 2020 میں ملک بھر میں خلع کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا، صوبہ سندھ میں 5 ہزار 198 خواتین نے خلع کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا جس میں سے 4 ہزار سے زائد کیسز کا تعلق کراچی سے تھا۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے مارننگ شو باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے مسز خان نے کہا کہ خواتین کو سمجھوتے کرنا ضروری ہے، ان کا سمجھوتے نہ کرنا خلع کے بڑھتے کیسز کی وجہ ہے۔

ماہر قانون عثمان فاروق نے بتایا کہ خلع اور علیحدگیوں کی سب سے بڑی وجہ بے جوڑ شادیاں ہیں، آج کل تعلیم اور کلاس کے حوالے سے بے جوڑ شادیاں کی جارہی ہیں جو آگے چل کر مسائل کا سبب بنتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ شادیاں کرتے ہوئے ذات پات کا خیال رکھنا بھی ایک اہم مسئلہ ہے تاہم اب یہ رجحان کم ہورہا ہے، اس کا ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ پہلے ایک شادی میں بیچ بچاؤ کروانے والے خاندان کے بے شمار افراد ہوا کرتے تھے جن کا کردار اب کم ہوگیا۔

عثمان فاروق کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین کا ذمہ داریوں کوسمجھنا بھی ضروری ہے، کسی ایک فریق پر تمام ذمہ داریاں ڈال دینے سے کام نہیں چلتا۔ علاوہ ازیں جب دو افراد ایک دوسرے کی زندگی میں شامل ہوتے ہیں تو انہیں ایک دوسرے کوسمجھنے کا موقع دینا چاہیئے اور دیگر افراد کو مداخلت سے باز رہنا چاہیئے۔

انہوں نے بتایا کہ خلع اور علیحدگی کے بعد دونوں خاندانوں میں لڑائیاں شروع ہوجاتی ہیں علاوہ ازیں سوشل میڈیا پر بھی ایک فریق کو بدنام کرنا شروع کردیا جاتا ہے خصوصاً یہ کام خواتین کے خلاف زیادہ کیا جاتا ہے۔ ایسے اقدامات سے باز رہنا چاہیئے اور معاملات کو احسن طریقے سے ختم کرنا چاہیئے۔

عثمان فاروقی نے مزید کہا کہ شادی ایک یونٹ ہے اور اس کے ٹوٹنے سے صرف دو افراد متاثر نہیں ہوتے بلکہ دو خاندان اور ان کے بچے بھی اس کی زد میں آتے ہیں۔ اس یونٹ کے بکھرنے سے معاشرے کے بکھرنے کا بھی خدشہ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں