برطانیہ: نئے سال کے پہلے ہی ہفتے طلاقوں میں ہوش ربا اضافہ -
The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ: نئے سال کے پہلے ہی ہفتے طلاقوں میں ہوش ربا اضافہ

لندن: ایسا لگتا ہے کہ اردو محاورہ گھر ٹوٹنا اس وقت برطانیہ پر آسیب کی طرح چھا گیا ہے، نئے سال کے پہلے مہینے کے پہلے ہی ہفتے طلاقوں میں ہوش ربا اضافہ ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں نئے سال کے آغاز ہی میں طلاقوں کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے، وکلا نے جنوری کے پہلے پیر کو ’طلاق کا دن‘ نام دے دیا۔

وکلا نے جنوری کے پہلے پیر کو ’طلاق کا دن‘ نام دے دیا۔

برطانوی فلاحی ادارے کے مطابق کرسمس سے لے کر نئے سال کے آغاز تک عدالتوں میں طلاق کی 455 آن لائن درخواستیں آ چکی ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ طلاق کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد اب تک کے ریکارڈ سے سب سے زیادہ ہے، اس سے قبل اتنی کم مدت میں اتنی زیادہ درخواستیں کبھی موصول نہیں ہوئیں۔

برطانیہ میں کیے گئے سروے کے مطابق 55 فی صد سے زائد لوگوں کا کہنا ہے کہ نئے سال کی آمد پر لوگوں پر ذہنی دباؤ ہوتا ہے جس سے رشتے تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔


یہ بھی پڑھیں:  دبئی: موبائل میں بیلنس لوڈ نہ کروانے پر بیوی نے طلاق مانگ لی


ماہرین اس حوالے سے پریشان ہیں کہ نئے سال کے آغاز پر لوگوں پر رشتے توڑنے کا جنون کیوں سوار ہوا، وہ رشتے جنھیں وہ شادی کے بندھن میں بندھتے وقت عمر بھر نبھانے کا باقاعدہ وعدہ کرتے ہیں۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ طلاقوں کی بڑھتی تعداد کے پیچھے کچھ نفسیاتی اور معاشی عوامل ہو سکتے ہیں، جس کے سبب شادی شدہ جوڑے ذہنی تناؤ میں آ جاتے ہیں۔

تاہم ان کا خیال ہے کہ اگر پہلے سے شادی شدہ جوڑے گھریلو جھگڑوں سے اپنے تعلق کو محفوظ رکھنے کی کوشش کریں اور خوش گوار گھریلو زندگی گزاریں تو ایسے مواقع پر پریشانیوں کا مقابلہ بغیر رشتوں کے نقصان کیا جا سکتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں