site
stats
انٹرٹینمںٹ

یوسف خان (دلیپ کمار) 94 برس کے ہوگئے

ممبئی: پاکستان کے علاقے پشاور میں پیدا ہونے والے بھارتی لیجنڈ دلیپ کمار آج 94 برس کے ہوگئے ، وہ 11 دسمبر 1922 کو پشاور کے علاقے قصہ خوانی میں پیدا ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق 6 دہائیوں سے زائد پر محیط ہندی سینما کی تاریخ کا سب سے بڑا ستارہ اورٹریجڈی کنگ دلیپ کمارآج 94 برس کے ہوگئے۔ یوسف خان عرف دلیپ کمار پشاور کے علاقے قصہ خوانی میں 11 دسمبر 1922 کو پیدا ہوئے۔

آپ کے والد لالہ غلام سرور پھلوں کی تجارت سے وابستہ تھےوہ 1935 میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ  ہندوستان کے شہر ممبئی منتقل ہوئے اور وہاں سے اپنا کاروبار جاری رکھا۔

ممبئی منتقلی کے بعد 1943 میں دلیپ کمار کی ملاقات بمبئی ٹاکیز کے مالکان سے ہوئی جنہوں نے انہیں اپنی فلم میں مرکزی کردار کی پیش کش کی، دلیپ کمار کی منظوری کے بعد فلم ’’جواربھاٹا‘‘ کی شوٹنگ کا آغاز کیا گیا۔

یوسف خان کی پہلی فلم 1943 میں ریلیز ہوئی جس میں انہوں نے دلیپ کمار کا کردار ادا کیا ‘ عوامی مقبولیت کے بعد آپ کا اصل نام کہیں کھو گیا تاہم فلمی نام دلیپ کمار کے نام سے انڈسٹری میں پہچان ملی۔


پڑھیں: ’’ ممبئی: لیجنڈ اداکار دلیپ کمار خراب صحت کے باعث اسپتال منتقل ‘‘


سن 1949 میں راج کپوراورنرگس کے ساتھ پیارکی تکون پر مشتمل کلاسک فلم انداز نے دلیپ کمار کو سپراسٹار بنا دیا جب کہ یکے بعد دیگرے آنے والی فلموں نے انہیں بے مثال کامیابی دی۔ دلیپ کمار کی مشہور فلموں میں کرانتی ،کرما،سنگ دل، امر، اڑن کھٹولہ، آن، انداز، نیا دور، مدھومتی، یہودی، کوہ نور، آزاد، گنگا جمنا اور رام اور شیام سمیت متعدد فلمیں شامل ہیں تاہم 1960 میں تاریخی فلم “مغلِ اعظم” میں شہزادہ سلیم کا کرداران کی زندگی کایادگارکرداربن گیا۔

عوامی مقبولیت اور  اپنی اداکاری کی صلاحیتیں منوانے والے یوسف خان کو بہترین اداکاری پر کئی ایوارڈز سے نوازا گیا جبکہ آپ کو فلمی انڈسٹری میں سب سے زیادہ ایوارڈ جیتنے کا اعزاز حاصل ہے جس کی بنیاد پر آپ کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا ہے۔

دلیپ کمارکی فنی خدمات کے اعتراف میں بھارتی حکومت کی جانب سے انہیں پدما بھوشن اور دادا صاحب پھالکے ایوارڈزبھی عطا کیے گیے تاہم آج کل شہنشاہ جذبات شدید علیل اور اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

دوسری جانب دلیپ کمار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سالگرہ کی مبارک باد اور دعائیں دینے پر اپنے مداحواں کا شکریہ ادا کیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top