دو دریا سے ملنے والے بچے کے حوالے سے کہانی کا نیا رخ سامنے آگیا -
The news is by your side.

Advertisement

دو دریا سے ملنے والے بچے کے حوالے سے کہانی کا نیا رخ سامنے آگیا

کراچی : چند روز قبل ایدھی سینٹر کو ملنے والا عبداللہ نامی بچہ ایدھی سینٹر کیسے پہنچا اور کس نے پہنچایا، اس حوالے سے اے آروائی نیوز نے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کرلی۔ مذکورہ بچہ دو دریا سے نہیں ملا تھا۔

تفصیلات کے مطابق 25 مئی کی رات کو گیارہ بج کر سینتیس منٹ پر ایک شخص اپنی جیپ میں ایدھی سینٹر کے باہر پہنچا سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایدھی سینٹر پہنچانے والاجو شخص رضوان ہے اس نے چیک پرنٹ کی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔

ایدھی سینٹر کے اندر پہنچا اور اس نے ایدھی سینٹر میں یہ بتایا کہ اس کو یہ بچہ دو دریا سے ملا ہے جسے ایدھی فاؤنڈیشن نے مسنگ چائلڈ کے طور پر اپنے پاس رکھ لیا اور اس کے والدین کی تلاش شروع کردی۔

دوسری جانب رضوان وہی شخص ہے جس نے ایک ماہ قبل عبداللہ اورا س کی و الدہ کو دہلی کالونی میں ناصر منزل میں دوسری منزل پر فلیٹ کرائے پر دلوایا ،کرائے نامہ میں بھی رضوان نے اپنا اوورسیز والا شناختی کارڈ لکھوایا جبکہ رضوان نے ایدھی سینٹر میں غلط بیانی سے کام لیا کہ بچہ اس کو دو دریا سے ملا ہے۔

پولیس کے مطابق رضوان اس کیس میں مرکزی ملزم ہے جس کی تلاش زور و شور سے جاری ہے ،گذشتہ روز ناصر منزل سے ملنے والی حلیمہ نامی خا تون کی لاش نے یکسر واقعے کا رخ موڑ دیا۔

پولیس کے مطابق جب تک رضوان نامی شخص گرفتار نہیں کرلیا جاتا تب تک واقعے کو فوری طور پر حل نہیں کیا جاسکتا۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی ملنے والی لاش کی خراب حالت کے باعث وجہ موت کا تعین نہیں ہوسکا اور لاش کو کیمیکل ایگزامن کیلئے لیبارٹری بجھوادیا گیا ہے جس کے بعد اس بات کا تعین ہوسکے گا کہ ملنے والی لاش کو کس طرح سے قتل کیا گیا ہے۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں