The news is by your side.

Advertisement

کیا اسلام میں پسند کی شادی کی اجازت ہے؟

اسلام دین کامل ہے جو ہر بشری تقاضوں، رشتوں اور ذمہ داریوں کو نہ صرف بیان کرتا ہے بلکہ اس کی حدود و قیود سے بھی آگاہ کرتا ہے تا کہ انسان اپنی بشری لرزش کے باعث توازن نہ کھو بیٹھے اور معاشرے میں فساد کی سی کیفیت پیدا نہ ہو جائے۔

والدین اور اولاد کا رشتہ بقیہ تمام رشتوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور قریبی ہوتا ہے لیکن اتنا ہی حساس اور نازک بھی ہوتا ہے فرائض، ذمہ داری اور حقوق کے درمیان توازن نہ رہے تو خونی رشتے بھی تا دیر قائم نہیں رہ سکتے۔

فی زمانہ نسلِ انسانی اپنے دور کے سب سے جدید، متحرک اور انقلابی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے جس کے باعث تہذیبوں کا ٹکراؤ بھی جاری ہے تو کہیں کہیں تہذیبوں کا ملاپ ہوتا بھی نظر آ رہا ہے جس کی ایک واضح مثال ہمارے بچوں اور بچیوں کا پسند کی شادی کرنے پر اصرار ہے۔

اے آر وائی ڈیجیٹل نیٹ ورک کے اسلامی چینل کیو ٹی وی نے ان جدید مسائل کو نظر رکھتے ہوئے اپنے پروگرام میں عالم دین اور سائل کو براہ راست گفتگو کرنے کا موقع دیا جس میں سائل کی جانب سے پسند کی شادی کرنے کے حوالے سے شریعت کے احکام معلوم کیےگئے۔

پروگرام میں سائل کا جواب دیتے ہوئے مفتی صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ شادی تو ہوتی ہی پسند کی ہے جس میں والدین کے ساتھ ساتھ بچوں کی رضامندی کا شامل ہونا بھی ضروری ہوتا ہے کیوں کہ جن دو افراد کو ساری عمر کے لیے سب سے قریبی رشتے میں باندھا جاتا ہے اس میں ان کی رائے ہی سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہو تی ہے۔

مفتی صاحب کا کہنا تھا کہ فی زمانہ پسندیدگی کے اظہار سے بات آگے نکل چکی ہے اور بچے شادی سے قبل نہ صرف یہ کہ طویل گفتگو کرتے ہیں بلکہ آپس میں خفیہ ملاقاتیں بھی کرتے ہیں یہ عمل کسی شر کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

مفتی صاحب نے کہا کہ نہ تو اسلام اور نہ ہی ہماری تہذیب اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ لڑکا لڑکی شادی سے قبل آزادی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ گھومے پھریں اور ملاقاتیں کریں البتہ اگر لڑکا یا لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں تو اپنی پسندیدگی کا اظہار والدین سے کریں اور ہر ممکن کوشش کریں کہ کسی بھی طرح والدین کی بدنامی کا باعث نہ بنیں، اسی طرح والدین بھی انا اور ضد پر بچوں کی پسند کو ترجیح دیں اور اگر رشتہ معقول ہو تو ہاں کر دینی چاہیئے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ

فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ(سورۃ النسا آیت 3)

ترجمہ: نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں۔

یہاں اللہ تعالیٰ مرد کو اپنی پسند کی عورت سے نکاح کا اختیار دے رہا ہے مگر اس بات کا تعین بھی کرنا ضروری ہے کہ دین اسلام میں پسندیدہ عورت کون سی ہے؟

نکاح چار چیزوں کو دیکھ کر ہوتا ہے

جان کائنات رسول اکرمﷺ نے اس بارے میں فرمایا کہ نکاح چار چیزوں کو دیکھ کر ہوتا ہے، آل ، مال ، کمال اور جمال، میری وصیت ہے کہ تم کمال دیکھ کر شادی کرنا۔

آل یہ ہے کہ عورت کسی شاہی خاندان، سید یا کسی اور اعلیٰ نسب سے تعلق رکھتی ہو۔

مال یہ ہے کہ عورت امیر ہو، مال وجواہر رکھتی ہو۔

جمال یہ ہے کہ وہ حسن رکھتی ہو جب کہ

کمال یہ ہے کہ وہ کسی خوبی کی مالک ہو جس کی بنا پر مرد کہہ سکے کہ اس عورت کے ساتھ زندگی کا سفر اچھا گزرے گا اور رسول اکرمﷺ نے امت کو کمال دیکھ کر شادی کرنے کی تلقین کی۔

یہ بھی پڑھیں: لوڈو کھیلنا حرام ہے یا حلال؟ جانیں‌ دین کی روشنی

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں