The news is by your side.

Advertisement

کرونا متاثر ڈاکٹر کی نومولود بیٹی کی زندگی خطرے میں پڑ گئی

لاہور: چلڈرن اسپتال میں ڈاکٹر سمیت عملے کے 4 افراد کرونا وائرس سے متاثر ہو گئے، کو وِڈ نائنٹین کے لیے لیے گئے سیمپلز کا نتیجہ 10 دن کی تاخیر کے بعد آیا، جس کی وجہ سے ڈاکٹر کی نومولود بیٹی کی زندگی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کے چلڈن اسپتال میں ایک ڈاکٹر سمیت عملے کے چار افراد کرونا وائرس سے متاثر ہو گئے، اسپتال انتظامیہ کا کہنا تھا کہ چلڈرن اسپتال سے 10 روز پہلے 52 افراد کے سیمپل لیے گئے، جس کا رزلٹ نہایت تاخیر سے دیا گیا۔

وائرس سے متاثر ہونے والے ڈاکٹر عمیر کا مؤقف تھا کہ انھیں دس روز بعد بتایا گیا کہ وہ کرونا وائرس سے متاثر ہیں۔ ڈاکٹر عمیر کا کہنا تھا کہ ان 10 دنوں میں اپنے گھر والوں اور اسپتال کے لوگوں سے ملا ہوں۔

تشویش ناک امر یہ ہے کہ کرونا وائرس کے شکار ڈاکٹر عمیر کے ہاں 5 روز قبل ایک بیٹی کی پیدایش بھی ہوئی ہے، ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ وہ اپنی نوزائیدہ بیٹی سے بھی ملے اور انھیں چوما، اگر وقت پر بتا دیا جاتا تو لوگوں سے نہ ملتا۔

10 دن بعد رپورٹ ملنے پر اسپتال عملے میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، کیوں کہ عملے کے جن تین افراد کی رپورٹ پازیٹو آئی ہے، وہ بھی دیگر لوگوں سے ملتے رہے ہیں۔ دوسری طرف محکمہ صحت پنجاب نے اپنے بیان میں کہا ہےکہ کرونا وائرس سے متاثر ڈاکٹرز اور عملے کو آئسولیٹ کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ کرونا وائرس سے ملک بھر میں دو سو کے قریب ڈاکٹرز اور طبی عملے کے ارکان متاثر ہو چکے ہیں جب کہ نرسز سمیت کئی ڈاکٹرز جان سے بھی ہاتھ دھو چکے ہیں۔ ادھر کرونا وائرس ملک بھر میں تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے، پاکستان میں وائرس کے 26 ہزار 260 مریض زیر علاج ہیں جب کہ تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 37 ہزار 218 ہو چکی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا سے 33 اموات ہوئیں جس کے بعد ملک بھر میں کرونا وائرس کے باعث اموات 803 ہو گئیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں