The news is by your side.

Advertisement

کرونا سے لڑنے والے ایک اور ڈاکٹر کی گھر والوں کے لیے قربانی

کیلی فورنیا: مہلک وبائی مرض کرونا سے لڑنے والے ایک امریکی ڈاکٹر نے گھر والوں کو وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے ٹینٹ میں رہایش اختیار کر لی۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست کیلی فورنیا میں ایک ڈاکٹر نے اپنے گیراج میں ٹینٹ لگا کر اس میں رہایش اختیار کر لی، کرونا کے مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر ٹمی چینگ نے یہ قدم اپنے بیوی بچوں کو وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے اٹھایا۔

کرونا کے مریضوں کا علاج کرنے کے لیے فرنٹ لائنز پر ڈیوٹی انجام دینے والے کیلی فورنیا کے ڈاکٹر ٹمی چینگ کا کہنا ہے کہ انھوں نے خود کو گھر والوں کے لیے آئسولیٹ کیا ہے، جب وہ اسپتال میں دن بھر سخت ڈیوٹی کر کے گھر آتے ہیں تو گھر کے افراد سے دور ٹینٹ میں سوتے ہیں۔

ڈاکٹر ٹمی چینگ کا گھر کے گیراج میں بنایا ہوا ٹینٹ، تاکہ ان کے گھر والوں میں وائرس کی منتقلی کا امکان نہ رہے

انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بنائے ہوئے آئسولیشن ٹینٹ کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے رضاکارانہ طور پر خود کو بے گھر کیا ہے، کیوں کہ مریضوں کا علاج کرنے کے دوران مجھے وائرس لگ سکتا ہے، اگر میں ایسا نہ کروں تو بیوی بچے بھی وائرس کا شکار ہوجائیں گے۔

نرس کی بڑی قربانی، بچوں کو شیشے کے پار دیکھنے پر مجبور

ڈاکٹر ٹمی کا کہنا تھا کہ وہ ایک رات گاڑی میں گزارتے تھے، پھر 4 راتیں اسپتال کے کال روم میں، لیکن بے آرامی کا احساس ہوتا تھا۔ تب ایک دن ان کی بیوی نے آئیڈیا پیش کیا کہ گیراج میں ٹینٹ بنا کر اس میں رہوں، جس پر میں نے یہ بنالیا۔

ایروِن میں یونی ورسٹی آف کیلی فورنیا میڈیکل سینٹر میں کام کرنے والے ڈاکٹر ٹمی چینگ پلمونری اور کریٹیکل کیئر اسپیشلسٹ ہیں، ٹینٹ میں اب دو میٹرس، تکیے اور ایک لیپ ٹاپ کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وبا کی وجہ سے ٹینٹ میں انھیں کئی مہینے گزارنے پڑ سکتے ہیں، کھانے پینے کا سامان گھر والے گیراج کے دروازے پر چھوڑ دیتے ہیں۔ انھوں نے عوام سے یہ بھی کہا کہ وہ انھیں اور دیگر طبی عملے کو اس طرح بے گھری کی حالت سے نکال سکتے ہیں اگر وہ اپنے گھروں تک خود کو محدود کر لیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں