ماہرِ نفسیات و ڈاکٹر نے سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ جیفری ایپسٹین نے خودکشی نہیں کی بلکہ گلا دبایا گیا۔
تفصیلات کے مطابق بدنامِ زمانہ جنسی اسکینڈل کے مرکزی کردار جیفری ایپسٹین کی موت کے حوالے سے ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
ایپسٹین اسٹیٹ کی جانب سے پوسٹ مارٹم کے لیے ہائر کیے گئے معروف ڈاکٹر مائیکل باڈن نے دعویٰ کیا ہے کہ ایپسٹین نے جیل میں خودکشی نہیں کی بلکہ ممکنہ طور پر اس کا گلا دبایا گیا تھا۔
برطانوی اخبار ‘دی ٹیلی گراف’ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر مائیکل باڈن نے بتایا کہ لاش کے معائنے سے ایسے شواہد ملے ہیں جو خودکشی کے بجائے قتل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا اس بات پر متفق ہوں کہ موت کی حتمی وجہ اور طریقہ کار کا تعین کرنے کے لیے مزید گہری معلومات اور تحقیقات درکار ہیں۔
یاد رہے کہ جیفری ایپسٹین 10 اگست 2019 کو نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے، جسے اس وقت حکام نے مبینہ طور پر خودکشی قرار دیا تھا۔
دوسری جانب ایپسٹین اسکینڈل کے اثرات بین الاقوامی کارپوریٹ سطح پر بھی نظر آ رہے ہیں۔ جیفری ایپسٹین سے مبینہ تعلقات کے الزامات سامنے آنے کے بعد دبئی کی عالمی شہرت یافتہ پورٹ آپریٹر کمپنی ڈی پی ورلڈ (DP World) کے سربراہ سلطان احمد بن سلیم اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔
ان کے استعفے کو عالمی کاروباری حلقوں میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ ایپسٹین کے ہائی پروفائل شخصیات کے ساتھ تعلقات کی فائلیں اب بھی کئی بڑے ناموں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


