دنیا بھر میں ڈاکٹرز کی دوا تجویز کرنے کا نسخہ کسی معمے سے کم نہیں، پاکستان میں بھی نہ صرف اس پر مریض مسائل کا شکار ہوتے ہیں بلکہ اس پر لطیفے بھی عام ہیں۔
مریضوں کے لیے تجویز کردہ دوا کے نسخے کسی تجریدی آرٹ سے کم نہیں ہوتے، پرچیوں پر لکھی تحریر کو عموماً فارمیسی والے ہی پڑھ سکتے ہیں اور بعض اوقات یہ اُن کی سمجھ میں بھی نہیں آتی۔ بہت سے ڈا کٹروں کی لکھائی بہت خراب ہوتی ہے جس کی وجہ سے کبھی کبھی میڈیکل اسٹور پر مریض کو غلط دوا دے دی جاتی ہے۔
برطانیہ میں صحت کے حکام نے تسلیم کیا کہ ’’دوائیاں دیے جانے کے عمل میں ہونے والی غلطیوں سے سنگین نقصان اور اموات ہو رہی ہیں اور الیکٹرانک نسخے کا نظام نافذ کرنے سے غلطیوں میں 50 فی صد کمی آ سکتی ہے۔‘‘
حکومتی دعوؤں کے برعکس پاکستان میں سرمایہ کاری میں کتنی کمی آئی؟ ویڈیو رپورٹ
حال ہی میں بھارت کے صوبے ہریانہ کی ہائی کورٹ کی طرف سے ایک حکم نامہ جاری ہوا ہے جس میں ڈاکٹروں کو واضح نسخہ لکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے ایسے طبی نسخے جو مبہم اور ناقابل فہم ہوں وہ مریضوں کے لیے جان لیوا نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔
ندیم جعفر اے آر وائی نیوز سے وابستہ ایک ممتاز صحافی ہیں جو کہ مختلف سماجی اور سیاسی موضوعات پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ندیم کراچی یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر کی ڈگری اور آسٹریلیا کے ایک باوقار ادارے سے ایڈوانس سرٹیفیکیشن کے حامل
ہیں۔


