The news is by your side.

Advertisement

کیا سورج کی شعاعیں کرونا وائرس کو ختم کرسکتی ہیں؟

کیا سورج کی شعاعیں کرونا وائرس کو تباہ یا ختم کرسکتی ہیں؟ امریکی حکومت کے عہدیدار کے پراسرار دعوے کے بعد ماہرین نے عوام کو مزید احتیاط کی تاکید کردی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا کے محکمہ داخلہ سیکیورٹی کے حکام نے دو روز قبل صدر ٹرمپ کی موجودگی میں دعویٰ کیا کہ سورج کی شعاعیں کرونا وائرس کو کم یا ختم کرسکتی ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر داخلہ کے مشیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی ولیم برائن نے صحافیوں کو بتا کہ امریکی سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق سورج کی شعاعیں وبا کو ختم کرنے کی طاقت رکھتی ہیں اور امید ہے کہ موسم گرما تک وائرس کا پھیلاؤ کم ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں: کرونا وائرس کو شکست دینے سے متعلق ایک اور حوصلہ افزا خبر

اُن کا کہنا تھا کہ امریکا سائنسدانوں نے مشاہدہ کیا کہ ہوا اور سطحوں پر موجود کو ختم کرنے میں شمسی توانائی مددگار ثابت ہوتی ہے، ماہرین نے درجہ حرارت اور نمی میں بھی کرونا پر تجربات کیے جس کے بہت اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔

امریکی وزیر داخلہ کے مشیر کا کہنا تھا کہ ماہرین نے بتایا کہ جہاں درجہ حرارت اور نمی میں اضافہ ہوتا ہے وہ کرونا وائرس کی شدت ختم یا کم ہوجاتی ہے، وائرس کی زندگی ویسے تو 18 گھنٹے ہے مگر اکیس سے چوبیس سینٹی گریڈ پر وائرس چھ گھنٹے میں ختم ہوجاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہوا میں نمی کا تناسب 80 فیصد تک ہو اور اس کے ساتھ میں دو منٹ تک سورج کی شعاعیں شامل کی جائے تو ہوا میں موجود وائرس ایک گھنٹے سے بھی کم وقت تک زندہ رہتا ہے، اسی طرح بیس فیصد نمی اور سورج کی شعاعوں کے ساتھ اگر درجہ حرارت 70 سے 75 سینٹی گریڈ ہو تو وائرس ڈیڑھ منٹ میں ختم ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کرونا سے متاثرہ شخص کی وینٹی لیٹر پر موت کیوں ہوتی ہے؟ وجہ سامنے آگئی

انہوں نے کہا کہ گرم موسم میں وائرس کی منتقلی یا پھیلاﺅ کم ہو سکتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ وبامکمل طور پر ختم ہو جائے گی بلکہ سماجی فاصلے کی ہدایات پر عمل درآمد کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہماری غیرذمہ داری ہو گی کہ ہم یہ سوچیں کہ گرم موسم میں یہ وائرس مکمل طور پر ختم ہو جائے گا اور ہم سب آزاد ہیں اور لوگ احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کر دیں۔

امریکی حکام کی جانب سے یہ تحقیق منظر عام پر نہیں لائی گئی البتہ دیگر طبی ماہرین نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ یہ بات سُن کر غفلت کا مظاہرہ نہ کریں بلکہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے رہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں