The news is by your side.

Advertisement

گندے فریج سے لاش برآمد، خاتون گرفتار

اسکاٹ لینڈ میں ایک خاتون نے کئی سال تک اپنے گھر کی صفائی نہیں کی، پڑوسی کی شکایت پر متعلقہ ادارہ خاتون کے گھر پہنچا تو ان کے فریج سے ایک کتے کی لاش نکل آئی۔

بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق کرسٹی میک نیل نامی ایک 40 سالہ خاتون پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے 3 کتوں اور 2 بلیوں کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی جس کی وجہ سے ایک کتے کی دردناک موت ہوگئی جبکہ دیگر دو کتوں کی حالت بھی خراب تھی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق نومبر 2019 میں ایک نامعلوم کالر نے ایک اسکاٹش تنظیم ایس ایس پی سی اے کو بتایا کہ کرسٹی اپنے جانوروں کی مناسب دیکھ بھال نہیں کر رہی۔

ایس ایس پی سی اے کے اہلکار خاتون کے گھر پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ گھر کافی گندا تھا اور گھر سے جانوروں کے فضلے اور پیشاب کی بو آرہی تھی۔ گھر میں موجود جانور بھی اسی گندگی میں رہ رہے تھے جبکہ ان کی صحت بھی خاصی خراب تھی۔

گھر میں موجود فریج کھولا گیا تو اہلکاروں پر لرزہ خیز انکشاف ہوا کہ فریج میں ایک کتے کی لاش رکھی تھی، اس کتے کا نام کوپر تھا۔ لاش اتنی بوسیدہ ہو چکی تھی کہ یہ معلوم کرنا بھی مشکل تھا کہ وہ کس نسل کا کتا ہے۔

ایس ایس پی سی اے کے اہلکاروں نے دیگر جانوروں کو وہاں سے نکالا اور کوپر کی لاش محکمہ فرانزک کو بھیج دی، فرانزک رپورٹ کے مطابق کتے کی موت جسم کے اندرونی اعضا کے کام نہ کرنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔

تفتیش سے پتہ چلا کہ کتے کو نہ تو اچھی خوراک دی گئی اور نہ ہی اس کی مناسب دیکھ بھال کی گئی جس کی وجہ سے اس کے ناخن بڑھ گئے تھے جو کہ اس کے پاؤں کے اندر مڑ گئے تھے۔

معاملہ عدالت میں پہنچا تو کئی چونکا دینے والے انکشافات ہوئے، خاتون نے اعتراف کیا کہ 24 ستمبر 2019 سے 24 نومبر 2019 کے درمیان اس نے اپنے گھر میں کسی کا بھی خیال نہیں رکھا۔

خاتون کے مطابق اس کے تینوں بچے، پالتو جانور اور اس کی بوڑھی ماں جو ڈیمینشیا میں مبتلا تھیں، سب اس وقت جدوجہد کر رہے تھے۔ خاتون کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یقیناً اس نے کسی پر توجہ نہیں دی، لیکن اس کے پیچھے بھی ایک وجہ ہے۔ اس دوران خاتون ایک پرتشدد تعلق سے باہر نکلی تھی۔

وکیل نے کہا کہ خاتون نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا بلکہ وہ خود ڈپریشن سے گزر رہی تھی۔

عدالت نے کرسٹی میک نیل پر اگلے 5 سال تک کتا رکھنے پر پابندی عائد کردی ہے، کیس کی اگلی سماعت اب رواں سال 16 نومبر کو ہوگی جب عدالت اپنا فیصلہ سنائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں