The news is by your side.

Advertisement

خلیجی ریاستوں کا قطر بائیکاٹ، دوحہ ایئر پورٹ پر مسافروں کی تعداد میں‌ کمی

دوحہ : سعودی عرب کی قیادت میں تین عرب ریاستوں کی جانب سے قطر کے سفارتی بائیکاٹ کے بعد غیر ملکی مسافروں نے قطر کا رخ کرنا چھوڑ دیا۔ جس کے باعث دوحہ ایئرپورٹ پر آنے والے سیاحوں کی تعداد میں 13 فیصد کمی واقع ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق دہشت گردی اور دہشت گردوں کی حمایت کے الزامات کے باعث خلیجی ملک قطر کو پڑوسی ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے سفارتی و اقتصادی بائیکاٹ کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی مسافروں نے قطر کا رخ کرنا چھوڑ دیا ہے۔

عرب میڈیا کا کہنا تھا کہ پہلی ششماہی رپورٹ مطابق دنیا بھر سے قطر آنے والے مسافروں کی تعداد میں 13 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس کے باعث قطر کے دارالحکومت دوحہ کا حمد بین الااقوامی ایئرپورٹ ویران ہوگیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ عرب ریاستوں کے بائیکاٹ کرنے سے پہلے 1 کروڑ 90 لاکھ مسافروں نے قطر کا رخ کیا، تاہم بائیکاٹ کے بعد 25 لاکھ افراد نے قطر کے سفر کو ترک کیا ہے۔

خیال رہے کہ دوحہ کا انٹرنیشنل ایئر پورٹ قطر کی سرکاری فضائی کمپنی کا ہیڈ کواٹر بھی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات، مصر، سعودی عرب اور بحرین نے سنہ 2017 جون میں سعودی عرب میں اسلامی ممالک کی کانفرنس منعقد ہونے کے بعد قطر پر دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کرنے کا الزام عائد کرکے سفارتی بائیکاٹ کردیا تھا۔

عرب میڈیا کا کہنا تھا کہ عرب ریاستوں کی جانب سے قطر کا بائیکاٹ کرنے کے بعد قطری فضائی کمپنیوں پر اپنی فضائی حدود استعمال کرنے پر بھی پابندی لگادی تھی۔ جس کے نتیجے میں قطر کو سیاحت کے شعبے میں بھی کافی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب قطری فضائی کمپنی کی دو اہم مارکیٹیں تھیں، جو سفارتی تعلقات خراب ہونے کی بنیاد پر بہت زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں