The news is by your side.

Advertisement

روپے کی قدر میں مسلسل کمی کے بعد انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں اضافہ

کراچی: اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ مارکیٹ کو ڈیمانڈ اور سپلائی کی بنیاد پرچلنے دیا، انٹربینک میں ڈالر اٹھارہ ماہ کی بلندترین سطح ایک سو چار اور اُوپن مارکیٹ میں ایک سو پانچ روپے کا ہوگیا۔

پیر کو کرنسی مارکیٹوں میں ڈالرنے روپے کو چاروں شانے چت کردیا۔روپے کی قدرمیں تشویشناک کمی ریکارڈ کی گئی، تاریخ میں پہلی بار انٹربینک میں ڈالر کی قدرمیں ایک دن میں دو روپے کا اضافہ ہوا اورڈالر اٹھارہ ماہ کی بلند ترین سطح 104روپے پرجاپہنچا۔

انٹربینک کےپیچھے چلنےوالی اُوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی پیر کوڈالربے لگام رہا اور 105 روپے کے قریب جاپہنچا، ترجمان اعلی اسٹیٹ بینک عابد قمر کا اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کرنسی مارکیٹ کو ڈیمانڈ اور سپلائی کی بنیاد پر چلنے دیا، عالمی کرنسی مارکیٹس کے اثرات پاکستانی روپے پر پڑے ہیں تاہم اسٹیٹ بینک مارکیٹ پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

ادھر فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کےچئیرمین ملک بوستان نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے ڈالر کی قیمت کا کیپ ہٹایا ہے جس سے ڈالر روپیہ بے قدر ہوا۔

 معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو ڈالر کی قیمت میں غیرمعمولی اضافے کا فوری نوٹس لینا چاہیئے۔ورنہ اس سے معیشت کو نقصان اور مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں