اسلام آباد (24 جنوری 2026): گھریلو تشدد اینڈ پروٹیکشن ایکٹ 2025 کے مندرجات سامنے آگئے جس میں بلا جواز طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی کو قابل سزا جرم قرار دے دیا گیا۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں رہنما پیپلز پارٹی شرمیلا فاروقی کے پیش کردہ گھریلو تشدد اینڈ پروٹیکشن ایکٹ 2025 کو منظور کیا گیا۔ بل خواتین، مردوں، خواجہ سرا، بچوں اور کمزور افراد کو تحفظ فراہم کرے گا، قانون کا اطلاق اسلام آباد تک ہے اور یہ فوری نافذ العمل ہوگا۔
بل میں گھریلو تشدد کی جامع تعریف بھی شامل کی گئی ہے، بل کے مندرجات یہ ہیں:
- گھریلو تشدد میں جسمانی، جذباتی، نفسیاتی، زبانی، جنسی اور معاشی تشدد شامل
- جسمانی تشدد میں مار پیٹ اور پینل کوڈ کے تحت جرائم شامل ہوں گے
- ذہنی و نفسیاتی تشدد میں تذلیل، گالم گلوچ، دھمکیاں اور خوف میں مبتلا کرنا شامل
- بلا جواز طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی گھریلو تشدد قرار
- عورت یا گھر کے کسی فرد کے کردار پر جھوٹا الزام بھی تشدد تصور ہوگا
- متاثرہ فرد کو جان بوجھ کر چھوڑ دینا یا نظر انداز کرنا تشدد کے زمرے میں شامل
- مسلسل نگرانی، ہراسانی اور نجی زندگی میں مداخلت جرم ہوگا
- شوہر کے علاوہ کسی اور کے ساتھ زبردستی رہنے پر مجبور کرناق ابل سزا عمل ہوگا
- جنسی نوعیت کا ہر وہ عمل جو عزت نفس مجروح کرے جنسی تشدد ہوگا
- معاشی تشدد میں خرچ روکنا، مالی و سائل سے محروم کرنا یا کنٹرول کرنا شامل
بل میں سزا اور جرمانے کا بھی تعین کیا گیا ہے
- گھریلو تشدد ثابت ہونے پر 6 ماہ سے 3 سال تک قید کی سزا ہوگی
- عدالت کم از کم 20 ہزار روپے ہرجانہ متاثرہ فرد کو دلانے کی مجاز ہوگی
- جرمانہ ادا نہ کرنے پر 3 ماہ اضافی قید ہو سکتی ہے
- تشدد میں مدد یا معاونت کرنے والا بھی برابر کا مجرم تصور ہوگا
بل میں عدالت اور درخواست کا طریقہ بھی واضح کیا گیا ہے
- متاثرہ فرد یا تحفظ افسر عدالت میں درخواست دائر کر سکے گا
- درخواست متاثرہ فرد کی رہائش یا مشترکہ گھر کے علاقے میں دائر ہوگی
- عدالت پہلی سماعت 7 دن کے اندر مقرر کرے گی
- عدالت 7 دن میں عبوری تحفظی حکم جاری کر سکے گی
- کیس کا فیصلہ 90 دن کے اندر لازم ہوگا
- عدالت ملزم کو متاثرہ فرد سے ہر قسم کے رابطے سے روک سکے گی
- ملزم کو فون، پیغام، سوشل میڈیا یا کسی بھی ذریعے سے رابطہ کرنے سے روکا جا سکے گا
- عدالت ملزم کو متاثرہ فرد سے دور رہنے یا مخصوص فاصلے پر رہنے کا حکم دے سکتی ہے
- سنگین تشدد کی صورت میں ملزم کو گھر خالی کرنے کا حکم دیا جا سکے گا
- عدالت ملزم کو متاثرہ فرد یا بچوں کی سلامتی کیلیے ضمانتی بانڈ جمع کروانے کا حکم دے سکتی ہے
- پولیس کو متاثرہ فرد کو فوری تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا جا سکے گا
بل میں رہائش اور ملکیت کے حقوق کے حوالہ سے وضاحت بھی جاری کی گئی ہے
- متاثرہ فرد کو مشترکہ گھر میں رہنے کا قانونی حق حاصل ہوگا
- ملکیت نہ ہونے کے باوجود متاثرہ فرد کو گھر سے بے دخل نہیں کیا جا سکے گا
- متاثرہ فرد شیلٹر ہوم میں رہائش اختیار کرنے کا حق رکھے گا
مالی امداد اور نان نفقہ کیلیے بھی بل میں شقیں شامل
- عدالت متاثرہ فرد اور بچوں کیلیے مالی امداد اور نان نفقہ مقرر کر سکے گی
- املاک کو نقصان پہنچانے کی صورت میں نقصان کا ازالہ کرایا جائے گا
- عدم ادائیگی پر عدالت آجر یا قرضدار کو تنخواہ سے رقم کاٹنے کا حکم دے سکے گی
بچوں اور تحویل کے بارے میں بھی بل میں احاطہ کیا گیا ہے
- عدالت بچوں یا متاثرہ بالغ کی عارضی تحویل کا حکم دے سکے گی
- بچے کی صورت میں تحویل گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ کے تحت ہوگی
- بالغ متاثرہ فرد کی تحویل اس کی مرضی کے مطابق دی جائے گی
احکامات کی مدت اور خلاف ورزی کے حوالے سے نکات بھی بل میں شامل
- عبوری، تحفظی اور رہائشی احکامات متاثرہ فرد کی درخواست تک برقرار رہیں گے
- حالات بدلنے پر عدالت احکامات میں ترمیم یا منسوخی کر سکے گی
- تحفظی حکم کی خلاف ورزی پر ایک سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوگا
- جرمانہ متاثرہ فرد کو ادا کیا جائے گا
- خلاف ورزی کا جرم قابل ضمانت اور قابل راضی نامہ ہوگا، اپیل کا حق بھی شامل
- عدالتی حکم کے خلاف 30 دن میں سیشن کورٹ میں اپیل دائر کی جا سکے گی
- سیشن کورٹ 60 دن میں اپیل کا فیصلہ کرے گی
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


