The news is by your side.

Advertisement

رکن اسمبلی کی بیٹی کے مبینہ تشدد سے ملازم ہلاک‘ بہن زخمی

لاہور: مسلم لیگ ن کی رکن صوبائی اسمبلی شاہ جہاں کی بیٹی کے مبینہ تشدد سے گھریلو ملازم جاں بحق جبکہ اس کی گیارہ سالہ بہن شدید زخمی ہے ، پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور اکبری گیٹ میں اوکاڑہ کا رہائشی 16 سالہ اختر اور اسکی 11 سالہ بہن فوزیہ کے گھر دو سال سے ملازمت کررہے تھے۔ خاتون فوزیہ مسلم لیگ ن کی لاہور سے تعلق رکھنے والی ایم پی اے شاہ جہاں کی بیٹی ہے، گھر سے اختر کی لاش برآمد ہوئی، جبکہ اسکی بہن عطیہ کے جسم پر بھی تشدد کے نشانات ہیں۔

پولیس نے ایم پی اے کی بیٹی فوزیہ کے خلاف مقدمہ قتل کی دفعہ تین سو دو کے تحت درج کیا گیا، لاہور میں درج ہونے والے اس مقدمے میں گیارہ سالہ عطیہ پر تشدد اور چائلڈ لیبر قوانین کی دفعات نہیں لگائی گئیں۔ تشدد کا نشانہ بننے والی عطیہ کا کہنا ہے کہ ہم پر تشدد لوہے کے راڈ اور ڈنڈوں سے کیا جاتا تھا۔ وزیر اعلی ٰپنجاب واقعہ کا نوٹس لے کر ہمیں انصاف فراہم کریں۔

عطیہ نے یہ بھی بتایا کہ پورے دن ان سے بے پناہ مشقت والے کام کرائے جاتے تھے اور محض دو وقت کھانا دیا جاتا تھا،بچوں کے والد اسلم کا کہنا تھا کہ اگر بچوں سے کوئی مسئلہ تھا توملزمہ کو ہم سے بات کرنی چاہیے تھی ۔

والد اسلم نے مزید بتایا کہ تین سال سے بچے مقامی خاتون ایم پی اے شاہ جہاں کے گھر کام کررہے تھے۔ ہماری اعلی ٰحکام سے انصاف کی اپیل ہے ۔

چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی چیئر پرسن صبا صادق نے بھی واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے،ان کا کہنا ہے کہ بچی کے علاج معالجے کے ساتھ ساتھ قانونی مدد بھی فراہم کی جائے گی۔

طیبہ کے والدین نے مقدمہ واپس لے لیا

یاد رہے گزشتہ برس اسلام آباد میں ایڈیشنل جج کی اہلیہ نے گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کیا تھا، اے آر وائی پر خبر آنے کے بعد  پولیس نے بچی کو تحویل میں لیا اور مقدمہ درج کیا۔

بعد ازاں والدین مقدمہ واپس لے لیا اورمؤقف اختیار کیا کہ غربت کی وجہ سے انہوں نےطیبہ کو راجا خرم کے حوالےکیا، طیبہ سابق ایڈیشنل جج  کے گھر سے لاپتہ ہوئی توانہوں نےفون پر اطلاع دی۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں