اسلام آباد : جوڈیشل مجسٹریٹ اسلام آباد نے 25 کروڑ روپے مالیت کی مبینہ چوری کے مقدمے میں نامزد گھریلو ملازمہ کو بری کردیا۔
تفصیلات کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ (ایسٹ) رضوان الدین نے پی ڈبلیو ڈی کی رہائشی خاتون کی جانب سے درج کرائے گئے تقریباً 25 کروڑ روپے مالیت کے چوری کے مقدمے میں نامزد گھریلو ملازمہ رخسانہ بی بی کی بریت کی درخواست منظور کر لی۔
عدالت نے استغاثہ کی کہانی کو "ناقابلِ یقین” اور "مشکوک” قرار دیا، مدعیہ نے جنوری 2024 میں تھانہ لوئی بھیر میں مقدمہ درج کرایا تھا کہ ملازمہ نے گھر سے 4 لاکھ روپے، 5 لاکھ برطانوی پاؤنڈز اور 5 لاکھ سعودی ریال چوری کیے ہیں۔
25 کروڑ روپے کے اس مبینہ ڈھیر کے بدلے تفتیش کے دوران ملازمہ سے محض 2 ہزار روپے برآمد ہوئے، جس کی کوئی قانونی حیثیت ثابت نہ ہو سکی۔
ملزمہ پر 18 ستمبر 2025 کو فردِ جرم عائد کی گئی تھی، لیکن بار بار مواقع دیے جانے کے باوجود استغاثہ ایک بھی گواہ یا دستاویزی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔
تحریری فیصلے میں عدالت نے ریمارکس دیے یہ بات عقل سے بالاتر ہے کہ کوئی اتنی بڑی رقم گھر میں رکھ کر چابی ملازمہ کے حوالے کر دے، گھر میں غیر ملکی کرنسی کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں دیا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کی کہانی انتہائی مشکوک ہے اور قانون کا طے شدہ اصول ہے کہ شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو ملتا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اس مقدمے کو مزید چلانا عدالتی وقت کا ضیاع ہے جسے حقیقی مقدمات کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
ملزمہ کے وکیل حبیب حنظلہ ایڈوکیٹ کے دلائل کے بعد عدالت نے ریمارکس دیے کہ مزید کارروائی سے وقت کا ضیاع ہوگا، لہٰذا رخسانہ بی بی کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 249 اے کے تحت مقدمے سے بری کیا جاتا ہے۔
خیال رہے پی ڈبلیو ڈی کی رہائشی ایک خاتون نے جنوری 2024 میں تھانہ لوئی بھیر میں مقدمہ درج کرایا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ملازمہ نے گھر سے 4 لاکھ روپے، 5 لاکھ برطانوی پاؤنڈز اور 5 لاکھ سعودی ریال چوری کیے ہیں، 18 ستمبر 2025 کو ملزمہ پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔


