The news is by your side.

Advertisement

صدرٹرمپ نے جعلی نیوز ایوارڈز کا اعلان کردیا

واشنگٹن : میڈیا سے ناراض ڈونلڈ ٹرمپ نے تنقید کرنے والے میڈیا ہاؤسز کے لئے جعلی نیوز ایوارڈز کا اعلان کردیا، جعلی خبروں پر سی این این،اے بی سی نیوزکو ایوارڈ کا حقدار قرار دے دیا جبکہ نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ بھی فہرست میں شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق صدرٹرمپ نے تنقید کرنے والے چینلز اوراخبارات کے لئے جعلی نیوز ایوارڈز کا اعلان کردیا، صدرکی جعلی خبروں کے ایوارڈ کی فہرست میں امریکا کے نامور چینلز اوراخبارات شامل ہیں۔

نیویارک ٹائمزاور اے بی سی نیوز کو ٹرمپ کے صدربننے کے بعداسٹاک مارکیٹ ڈوبنے کی خبر پر ٹرمپ نے جعلی نیوزایوارڈ کا حقدارقرار دیا۔

سی این این کوٹرمپ نے صدارتی مہم کے دوران ہلیری کلنٹن کی حمایت پر کلنٹن نیوزنیٹ ورک قراردیا تھا اوراب سی این این کوجعلی نیوزایوارڈز کا سب سے زیادہ مستحق قراردیا۔

مسلمان مخالف پالیسیوں اورمتنازع بیانات پرتنقید کرنے والے واشنگٹن پوسٹ اورنیوز ویک اور دیگربہت سے چینلز بھی ٹرمپ کی جعلی نیوزایوارڈزحاصل کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

ٹرمپ کا کہنا ہے نوے فیصد میڈیا کوریج ان کے خلاف اورمنفی رہی۔

یاد رہے کہ امریکی صدر نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں کہا تھا کہ ان کی جانب سے17جنوری کو سب سے زیادہ کرپٹ اور جعلی میڈیا کو ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ دلچسپ اور اہم بات یہ ہے کہ یہ اس سے بھی زیادہ کے حق دار ہیں۔


مزید پڑھیں :  صحافی کے سوال پرصدرٹرمپ آگ بگولہ، رپورٹرکو پریس کانفرنس سے نکال دیا


گذشتہ روز بھی امریکی صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ کے دوران ایک رپورٹرکا چبھتا ہوا سوال امریکی صدرٹرمپ کو ناراض کرگیا تھا، سی این این کے رپورٹرجم اکوسٹا نے افریقی ملکوں سے متعلق سوال پوچھنا چاہا تو ٹرمپ آگ بگولہ ہوگئے اور رپورٹر کو آؤٹ کہہ کر پریس کانفرنس سے نکال دیا تھا۔

خیال رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےمیڈیا کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئےمتعدد چینلز کوامریکی عوام کا دشمن قرار دے چکے ہیں جبکہ امریکی صدر نے گزشتہ سال کے آغاز میں وائٹ ہاؤس کے سالانہ پریس ڈنر میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم سے لے کر امریکا میں ٹرمپ کے ناپسندیدہ صحافتی اداروں اور ان کے صحافیوں کے خلاف بدتمیزیوں اور نامناسب رویوں کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے وہ تاحال جاری ہے۔

صدرٹرمپ اس سے قبل بھی پالیسیوں پرتنقید کرنے پرمیڈیا کوآڑے ہاتھوں لیتے رہتے ہیں جبکہ وائٹ ہاؤس میں متنازعہ سوالات پوچھنے پر کئی صحافیوں سے بدتمیزی کی گئی ہے اور بعض اوقات ان صحافیوں کو پریس بریفنگ سے باہر بھی نکال دیا جاتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں