پیر, اگست 10, 2026
اشتہار

امیر جواریوں کے لیے ایک لاکھ ڈالر کی انوکھی سروس

اشتہار

حیرت انگیز

واشنگٹن (04 اگست 2026): ڈونلڈ ٹرمپ پر امیر جواریوں اور سرمایہ کاروں کو اندرونی معلومات فروخت کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے، اور ان کے ادارے کی جانب سے ایک لاکھ ڈالر ماہانہ سروس پر امریکا میں ہنگامہ برپا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ادارے ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ کی جانب سے متعارف کرائی گئی ایک نئی سبسکرپشن سروس نے امریکا میں شدید سیاسی، قانونی اور اخلاقی بحث چھیڑ دی ہے۔

ناقدین کا دعویٰ ہے کہ اس سروس کے ذریعے ماہانہ ایک لاکھ ڈالر ادا کرنے والے صارفین کو وفاقی پالیسیوں اور اہم حکومتی اعلانات تک قبل از وقت رسائی دی جا سکتی ہے، جس سے مالیاتی منڈیوں اور پیش گوئی پر مبنی شرط لگانے والی مارکیٹوں میں غیر منصفانہ فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

امریکا میں اسپورٹس بیٹنگ اور بعض پریڈکشن مارکیٹس قانونی دائرہ کار میں کام کرتی ہیں، جہاں لوگ مستقبل کے سیاسی، معاشی اور دیگر واقعات کے نتائج پر رقم لگاتے ہیں۔ ان پلیٹ فارمز پر اس وقت صدر ٹرمپ کی آئندہ ملاقاتوں، کابینہ میں ممکنہ تبدیلیوں اور ان کی تقاریر میں استعمال ہونے والے جملوں تک پر شرطیں لگائی جا رہی ہیں۔


ایک لاکھ درہم کی لاٹری جیتنے والے پاکستانی خوش نصیب!


قانونی ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص کسی واقعے سے متعلق خفیہ یا پہلے سے موجود اندرونی معلومات کی بنیاد پر مالی فائدہ حاصل کرے تو یہ سنگین قانونی خلاف ورزی تصور کی جا سکتی ہے۔ ماضی میں بھی ایسے کئی مقدمات سامنے آ چکے ہیں جن میں اندرونی معلومات استعمال کرنے والے افراد کو تحقیقات اور عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر حکومتی فیصلوں، ٹیرف، خارجہ پالیسی یا دیگر اہم اعلانات سے متعلق معلومات مخصوص ادائیگی کے بدلے محدود افراد کو پہلے فراہم کی جائیں تو اس سے بڑی سرمایہ کار کمپنیاں اور دولت مند افراد غیر معمولی مالی فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جب کہ عام سرمایہ کار نقصان میں رہ سکتے ہیں۔

امریکی میڈیا اور متعدد مبصرین نے اس مجوزہ سروس پر ریگولیٹری اداروں سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر سروس کی تشہیر کے مطابق اندرونی حکومتی معلومات فراہم کی جاتی ہیں تو یہ مفادات کے ٹکراؤ، اندرونی معلومات کے ناجائز استعمال اور ممکنہ قانونی خلاف ورزیوں کا معاملہ بن سکتا ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ یا ٹرمپ میڈیا کی جانب سے ان الزامات کی تردید یا قانونی مؤقف سامنے آنے کی صورت میں معاملے کی نوعیت مزید واضح ہو سکتی ہے۔ فی الحال یہ معاملہ امریکی سیاست، مالیاتی منڈیوں اور کاروباری حلقوں میں ایک بڑے اخلاقی اور قانونی تنازع کے طور پر زیر بحث ہے۔

اہم ترین

جہانزیب علی
جہانزیب علی
جہانزیب علی اے آر وائی نیوز امریکا میں بطور بیورو چیف فرائض انجام دے رہے ہیں

مزید خبریں